سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 81

سيرة النبي علي 81 جلد 4 جائے گا اور درد اس لئے کہ اس آواز کے مالک کی طرف میرا دل زیادہ سے زیادہ کھینچا جا رہا تھا۔مگر تیرہ سو سال کا زمانہ پوری 13 نا قابل گز رصد یاں میرے اور اس کے درمیان میں حائل تھیں۔مگر بہر حال میرے دل سے پھر ایک آہ نکلی اور شکر و امتنان سے بھرے ہوئے دل سے میں نے کہا کہ یہ آواز انسانی ضمیر کے لئے بھی ایک رحمت ثابت ہوئی۔معذوروں کے لئے رحمت اس کے بعد میری نگہ انسانوں میں سے معذوروں پر پڑی۔میں نے دیکھا کہ انسانوں میں سے کافی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے ناکارہ اور بے مصرف نظر آتے ہیں۔ان میں سے اندھے ہیں اور بہرے ہیں اور گونگے ہیں اور لنگڑے ہیں اور اپاہج ہیں اور مفلوج ہیں اور کمزور جسموں والے ہیں اور بیمار ہیں اور بوڑھے ہیں یا چھوٹے ہیں، بیکار ہیں اور بے سرو سامان ہیں اور بے یارو مددگار ہیں۔میں نے دیکھا یہ مخلوق خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ دلچسپ مخلوق تھی۔میں نے ان میں سے ایسے لوگ دیکھے کہ باوجود اپاہج ہونے کے ان کے دل شرارت سے لبریز تھے۔اگر کسی کے ہاتھ نہ تھے تو وہ پاؤں سے چوری کرنے کی کوشش کرتا تھا اور اگر پاؤں نہ تھے تو وہ گھیسٹ کر بدی کے مقام پر جانا چاہتا تھا۔اور اگر آنکھیں نہ تھیں تو وہ کانوں سے بدنظری کا مرتکب ہونے کی کوشش کرتا تھا یا ہاتھوں سے چھو کر اپنے بد خیالات کو پورا کرنے کی سعی کرتا تھا۔بے یارو مددگار لوگوں کو میں نے دیکھا ان کے چہروں پر بادشاہوں سے زیادہ نخوت کے آثار تھے، بیکسوں کو دیکھا کہ اپنی بے کسی کی حالت میں ہی وہ دوسروں کو گرانے کے لئے کوشاں تھے۔مگر میں نے انہی لوگوں میں سے ایسے لوگ دیکھے جن کے دل خدا کے نور سے پُر تھے، ان کی آنکھیں نہ تھیں مگر وہ بینا لوگوں سے زیادہ تیز نظر رکھتے تھے ، ظاہری کان نہ تھے مگر ان کی سماعت غضب کی تیز تھی ، ہاتھ نہ تھے مگر جس نیکی کو پکڑتے تھے چھوڑنے کا نام نہ لیتے ، پاؤں نہ تھے مگر نیکی کی راہوں