سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 80

سيرة النبي علي 80 جلد 4۔میرے شبہات کا ازالہ کرتی رہی تھی پھر بلند نہ ہوتی۔پھر میں اسے دنیا کی آوازوں کو دباتے ہوئے نہ پاتا۔پھر اسے جلالی انداز میں یہ کہتے نہ سنتا کہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا باطل تو بھا گا ہی کرتا ہے۔ہے۔دین کے معاملہ میں جبر ہرگز جائز نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی میں کامل فرق کر کے دکھا دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہراک ضروری امر کو کھول دیا ہے اور بقدر ضرورت جسمانی پانی کی طرح وہ مختلف ممالک میں روحانی پانی برساتا رہا ہے۔ان کے اختلافات اس امر پر دلالت نہیں کرتے کہ وہ پانی پاک نہیں بلکہ صرف مختلف ممالک اور مختلف زمانوں کے لوگوں کی طبائع اور ضرورتوں کے فرق پر دلالت کرتا ہے جس کو جب اور جو ضرورت ہوئی خدا تعالیٰ نے ضرورت کے مطابق سامانِ ہدایت پیدا کر دیے۔پس ان اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اور اگر کوئی ناحق پر بھی ہو تب بھی اسے جبر سے نہ منواؤ کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ دل کی حالت کے مطابق ہے نہ کہ زبان کے قول کے مطابق۔خدا تعالیٰ کو تمہاری باتیں اور تمہارے ظاہری اعمال نہیں پہنچتے بلکہ اس کے حضور میں تمہارے دل کی کیفیت پہنچتی ہے جو جبر سے نہیں پیدا ہوسکتی۔ایک دوسرے کو عبادت گا ہوں میں عبادت کرنے سے نہ روکو کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔جو خدا کا نام لینا چاہتا ہے خواہ کسی طریق پر نام لے اسے اجازت دو تا لوگوں میں عبادت کی طرف توجہ ہو اور لامذہبیت ترقی نہ کرے۔لوگوں کی عبادت گاہوں کو نہ گراؤ خواہ آپس میں کس قدر ہی اختلاف کیوں نہ ہو کیونکہ اس سے ظلم اور فتنہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور امن کا قائم ہونا لمبے زمانے تک ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی حکومت کو تباہ کر دے گا اور نئی قو میں پیدا کرے گا جو اس کے حکم کے ماتحت عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گی۔اس آواز نے میرے خدشات کو دور کر دیا، میرے خیالات کو مجتمع کر دیا اور میں نے پھر آزادی کا سانس لیا جس میں ایک طرف تسلی اور دوسری طرف درد ملا ہوا تھا۔تسلی اس لئے کہ میں نے دیکھا کہ دنیا کی اصلاح کا دن آ گیا، ظلم مٹایا۔