سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 63
سيرة النبي علي 63 جلد 4 کیا شے ہے؟ اور کس کے لئے ہے؟ کیونکہ ہم کو تو مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور دوزخ کے سوا کسی شے کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔وہ انہی فکروں میں تھے کہ پھر وہی شیریں اور مست کر دینے والی آواز جو کئی بار پہلے دنیا کے عقدے حل کر چکی تھی بلند ہوئی۔پھر اس آواز کی صداؤں سے پُر کیف نغمے پیدا ہو کر دنیا پر چھا گئے۔پھر ہر شخص گوش بآواز ہو گیا۔پھر ہر دل رجاء و امید کے جذبات سے دھڑ کنے لگا۔وہ آواز بلند ہوئی اور اس نے دنیا کو اس بارہ میں طویل پیغام دیا جس کے مطلب اور مفہوم کو میں اپنے الفاظ میں اور اپنی تمثیلات سے ادا کرتا ہوں۔اس نے کہا جو کسی کے دل میں ناامیدی پیدا کرتا ہے وہ اس کے ہلاک کرنے کا ذمہ دار ہے 12۔ایمان کی کیفیت خوف و امید کی چار دیواری کے اندر ہی پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بھی تب جب امید کا پہلو خوف پر غالب ہو۔پس جو امید کو دور کرتا ہے وہ گناہ کو مٹاتا نہیں بڑھاتا ہے اور خطرہ کو کم نہیں زیادہ کرتا ہے۔آدم نے بیشک خطا کی لیکن وہ ایک بھول تھی 13۔دیدہ دانستہ گناہ نہ تھا۔لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ باپ جو کچھ کرے بیٹے کو اس کا ورثہ ملے۔اگر یہ ہوتا تو جاہل ماں باپ کے لڑکے ہمیشہ جاہل رہتے اور عالموں کے عالم۔مسلول ماں باپ کے بچے ہمیشہ مسلول نہیں ہوتے نہ کوڑھیوں کے بچے ہمیشہ کوڑھی ہوتے ہیں۔بعض باتوں میں ورثہ ہے اور بعض میں ورثہ نہیں اور جہاں ورثہ ہے وہاں بھی خدا تعالیٰ نے ورثہ سے بچنے کے سامان پیدا کئے ہیں۔اگر ورثہ سے بچنے کے سامان نہ ہوتے تو تبلیغ اور تعلیم کا مقصد کیا رہ جاتا ؟ کافروں کے بچوں کا ایمان لے آنا بتا تا ہے کہ ایمان کے معاملہ میں خدا تعالیٰ نے ورثہ کا قانون جاری نہیں کیا۔اگر اس میں بھی ورثہ کا قانون جاری ہوتا تو مسیح کی آمد ہی بے کار جاتی۔اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو نیک طاقتیں دے کر پیدا کیا ہے پھر بعض انسان ان حالتوں کو ترقی دیتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں اور بعض ان کو پاؤں میں روند دیتے ہیں اور نامراد ہو جاتے ہیں۔قانونِ شریعت بے شک سب کا سب قابل عمل ہے لیکن نجات کی بنیاد عمل پر نہیں