سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 486
سيرة النبي علي 486 جلد 4 اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ کس پائے کے انسان ہیں اس لئے ہم نے لاعلمی میں ایک ایسا معاہدہ کر لیا جس میں آپ کی شان اور بزرگی کو پوری طرح ملحوظ نہیں رکھا گیا مگر یا رسول اللہ ! اب تو ہم پر حقیقت کھل چکی ہے اور اب ہم سمجھ چکے ہیں کہ ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہیں۔سامنے سمندر تھا ( دو تین منزل کے فاصلہ پر یہ نہیں کہ نظر آتا تھا ) اُس کی طرف اشارہ کر کے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! اگر آپ حکم دیں کہ ہم اس بے کنار سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں تو ہم بغیر ہچکچاہٹ اور بغیر ایک ذرہ بھر تر ڈو کے اپنے گھوڑے اس سمندر میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔پھر اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! اگر جنگ ہوئی تو ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں رہے گا اور کوئی دشمن اُس وقت تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے 1۔اب دیکھو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جب خدا کا ہم سے وعدہ ہے کہ وہ ہمیں فتح دے گا اور کفار پر ہمیں غلبہ عطا کرے گا تو ہماری جانوں کو کیوں خطرہ میں ڈالا جاتا ہے بلکہ اُنہوں نے ہر ممکن قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔وہ اس اعتراض کو جانتے تھے جو موٹٹی کی قوم نے کیا اور غالباً اس انصاری نے اس خیال سے کہ ممکن ہے ہم میں سے بھی بعض کمزور ایمان والے یہ سمجھیں کہ جب خدا کا ہم سے فتح کا وعدہ ہے تو ہم سے جانی قربانی کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے واقعہ کو ہی دہرایا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم موسی کی قوم کی طرح نہیں جس نے حضرت موسی سے کہہ دیا تھا کہا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّا هُهُنَّا قُعِدُونَ 2 جا تو اور تیرا خدا دشمن سے لڑتے پھریں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ يَا رَسُولَ اللہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور کسی دشمن کو اُس وقت تک آپ کے پاس پہنچنے نہیں دیں گے تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔اب صحابہ نے یہ نہیں کہا کہ ہم کیوں لڑیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس قسم کے