سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 485

سيرة النبي علي 485 جلد 4 یہ تحریک صحابہؓ کے ایمانوں کو ظاہر کرنے کے لئے ہی کی ہو۔بہر حال جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات پیش کی تو یکے بعد دیگرے مہاجرین اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ ہم سے کیا مشورہ پوچھتے ہیں؟ آپ ہمیں حکم دیجئے ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں۔مگر جب ایک مہاجر اپنی رائے کا اظہار کر کے بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی اور مہاجر کھڑا ہوتا اور کہتا يَارَسُولَ الله ! مشورہ کیا پوچھتے ہیں ہمیں حکم دیجئے ہم لڑنے کے لئے حاضر ہیں۔جب وہ بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔آخر جب بار بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فقرہ کو دہرایا تو انصار سمجھ گئے کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ہم اپنی رائے کا اظہار کریں۔چنانچہ ایک انصاری کھڑا ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ کی مراد شاید ہم انصار سے ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے ، میری مراد تم ہی سے ہے۔اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! شاید آپ کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے جو ہم نے آپ کے مدینہ آنے پر کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔بات دراصل یہ تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو انصار سے آپ کا یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو لڑائی میں انصار مہاجرین کے ساتھ شریک ہوں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر کسی دشمن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقابلہ کرنا ہوا تو انصار اس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں۔چونکہ اس موقع پر مدینہ سے باہر جنگ ہو رہی تھی اس لئے آپ نے چاہا کہ انصار کو اُن کا معاہدہ یاد دلا دیا جائے اور پھر اس کے بعد وہ جو مشورہ چاہیں دیں۔پس جب اُس انصاری نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللَّهُ کیا آپ کی مراد اس معاہدہ سے ہے جو ہم نے آپ کے مدینہ آنے پر کیا تھا؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔وہ کہنے لگا يَارَسُولَ اللہ ! ہمیں اُس وقت آپ کی حیثیت کا علم نہیں تھا