سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 473

سيرة النبي عمال 473 جلد 4 اسی طرح مہر ہے لوگ اب اپنی حیثیت سے بہت بڑھ چڑھ کر مہر باندھتے ہیں بلکہ ہمارے ملک میں تو لاکھوں تک بھی مہر باندھے جاتے ہیں۔مگر وہ مہر صرف باندھے ہی جاتے ہیں ان کے ادا کرنے کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔اس وقت جس نو جوان کا نکاح ہے ان کے والد پیرا کبر علی صاحب کا نکاح بھی میں نے ہی پڑھا تھا اس میں مہر دس ہزار روپیہ تھا۔میں جب نکاح پڑھنے لگا تو میں نے پیر صاحب سے کہا کہ اگر یہ مہر دینے کی نیت ہے تو اتنا مہر باندھیں ورنہ کم کر دیں۔اس پر وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضور ! اب میں نیت کرتا ہوں کہ یہ مہر ضرور ادا کر دوں گا۔شاید خدا نے ان کی اُس وقت کی نیت اور نیک ارادہ کرنے کی وجہ سے بعد میں ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ انہوں نے دس ہزار روپیہ مہر ادا کر دیا۔مگر لوگ تو ایسی حالت میں مہر باندھتے ہیں کہ وہ خود کنگال ہوتے ہیں اور گھر میں کھانے تک کو کچھ نہیں ہوتا یہاں تک کہ نکاح کے دو جوڑے بھی بننے سے قرض لے کر لاتے ہیں مگر مہر دیکھو تو کیا ہوگا تین گاؤں، ایک ہاتھی ، اتنے گھوڑے اور اتنے روپے وغیرہ۔میں نے خود تو کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا مگر مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی لکھتے ہیں جو میں نے پڑھا ہے کہ مہر میں اتنی مکھیوں کے پر اور اتنے مچھروں کے انڈے بھی شامل ہوتے تھے۔گویا یہ ان کی بڑائی کا نشان ہوتا ہے اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ ادھر ہماری بیٹی کی شادی ہوئی اور پھر سارا ملک مکھیوں کے پر اور مچھروں کے انڈے جمع کرنے میں لگ جائے گا۔مگر دیکھو رسول کریم ﷺ کے پاس ایک عورت آتی ہے اور آکر کہتی ہے یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنے آپ کو حضور کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔آپ فرماتے ہیں مجھے تو حاجت نہیں مگر ہم کسی اور نیک مرد سے تمہاری شادی کرا دیں گے۔اسی مجلس میں سے ایک اور شخص اٹھ کر عرض کرتا ہے یا رسول اللہ ﷺ ! مجھ سے کرا دیجئے۔آپ نے پوچھا کچھ پاس بھی ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ پاس تو کچھ نہیں۔آپ نے کہا لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔معلوم ہوتا ہے وہ صحابی بھی بہت ہی غریب تھا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ !