سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 26

سيرة النبي عمال 26 جلد 4 تھوڑے ہی عرصہ میں ان کے گھر کہرام مچ گیا۔رسول کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ مدینہ کی عورتیں جعفر کے گھر روتی ہیں۔چونکہ آپ کا یہ اصل منشا نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا ان کو روکو۔آپ نے یہ الفاظ محض اظہارِ درد کے لئے فرمائے تھے کہ جعفر وطن سے دور تھا اس پر رونے والا کوئی نہیں۔یہ گویا اس کی مسکینی کی موت کا احساس تھا۔مگر وہ تھوڑے سے عزیز جو مدینہ میں تھے اور باقی صحابیہ عورتوں کے دلوں میں بھی وہ درد پیدا ہو چکا تھا جو آپ پیدا کرنا چاہتے تھے اس لئے لوگوں نے جا کر رو کا مگر وہ نہ رکیں۔اس پر کسی نے آکر رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ وہ بند نہیں ہوتیں۔آپ نے فرمایا کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالو یعنی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو3۔لیکن بعض لوگوں نے اس کا مفہوم صحیح نہ سمجھا اور فی الواقعہ مٹی اٹھا لی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جب علم ہوا تو آپ نے ان کو ڈانٹا اور بتایا کہ آپ کا یہ مطلب نہیں 4۔“ ( الفضل یکم جون 1933 ء ) 66 1:مسلم كتاب الجنائز باب البكاء على الميت صفحه 371 حدیث نمبر 2135 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية 2 بخاری کتاب المغازى باب غزوة موتة من أرض الشام صفحہ 632 حدیث نمبر 3757 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 4،3:بخاری کتاب الجنائز باب من جلس عند المصيبة يعرف فيه الحزن صفحه 208 حدیث نمبر 1299 مطبوعہ ریاض 1999ءالطبعة الثانية