سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 377

سيرة النبي علي 377 جلد 4 صفات باری کے مظہر اتم حضرت مصلح موعود 26 نومبر 1937 ء کے خطبہ جمعہ میں رسول کریم یا دل کو صفات الہیہ کا مظہر اتم قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔سچائی جب ایک بچہ کے دل میں بھی داخل ہو جاتی ہے تو اُسے ایسا دلیر بنا دیتی ہے کہ وہ تمام دنیا کے مقابلہ میں نڈر ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے۔پھر جو ہمارے سردار اور آقا محمد مصطفی ملے ہیں انہیں دیکھ لو۔مکی زندگی میں ابو طالب جو آپ کے چچا تھے آپ کی بہت حفاظت کرتے تھے اور چونکہ وہ اپنی قوم کے سردار تھے اس لئے قریش مکہ صلى الله رسول کریم علیہ کو اس طرح وق نہیں کر سکتے تھے جس طرح وہ رسول کریم ہے کے صلى الله صحابہ کو دق کیا کرتے تھے۔آخر جب رسول کریم عہ کے وعظ ونصیحت کوسن سن کر انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام بڑھتا جاتا ہے اور اگر اسے جلدی روکا نہ گیا تو اس کا مٹانا مشکل ہو جائے گا تو وہ سخت غیظ و غضب سے بھر گئے اور وہ ایک وفد کی صورت میں ابوطالب کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ آپ کے بھتیجے نے ہمیں سخت دق کر رکھا ہے، وہ ہمارے بتوں کو گالیاں دیتا اور ایک خدا کا وعظ کرتا رہتا ہے۔آپ اسے سمجھائیں کہ وہ ایسا نہ کرے۔اور اگر وہ نہ رکے تو آپ اس سے الگ ہو جائیں اور ہم پر اس کا معاملہ چھوڑ دیں ہم خود اسے روک لیں گے۔اور اگر آپ ان سے الگ ہونے کے لئے تیار نہ ہوں تو مجبوراً ہمیں آپ کی سرداری کو بھی جواب دینا پڑے گا اور پھر اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ابو طالب اپنے قبیلہ کے سردار تھے اور جن قوموں کی قبائلی زندگی ہوتی ہے وہ اپنی سرداری کی بڑی قیمت بجھتی ہیں۔ابوطالب نے جب یہ بات