سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 373

سيرة النبي عمال 373 جلد 4 رسول کے اس قدر قریب ہوں کہ ان پر عذاب کا اثر رسول اور اس کے ساتھیوں پر بھی پڑسکتا ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مکہ والے تو خوش ہیں کہ انہوں نے محمد (ع) کو نکال لیا ہے اور مکہ کو بزعم خود پاک کر دیا۔حالانکہ ایسا کر کے انہوں نے ہمارے لئے ان پر عذاب نازل کرنے کا رستہ کھول دیا ہے۔“ ( الفضل 18 نومبر 1937 ء ) نیز فرمایا:۔تو یہ مکہ والوں کی بیوقوفی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو نکال کر انہوں نے مکہ کو پاک کر لیا ہے۔دراصل انہوں نے پاک نہیں کیا تھا بلکہ مکہ کے لئے خطرہ پیدا کر لیا تھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی پاکیزگی کو مکہ سے نکال کر انہوں نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا تھا۔لیکن بہر حال جس چیز کو وہ کامیابی سمجھتے تھے وہ انہوں نے بظاہر حاصل کر لی تھی۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص محنت اور سعی کرے وہ ضروری کلی یا جزوی کامیابی حاصل کر لیتا ہے اور مومن تو اگر کوشش کرے تو بہت ہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔مکہ والوں کا مقصد غلط تھا مگر وہ اس میں لگ گئے۔اس لئے عارضی کامیابی کی خوشی انہیں بھی حاصل ہو گئی۔اس کے مقابل دیکھ لو آخری زمانہ کے مسلمانوں کا مقصد کتنا عظیم الشان تھا۔یعنی یہ کہ قرآن کریم کی صداقت ظاہر الله ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت ثابت ہو۔مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بادشاہتیں مٹ گئیں، جتھے ٹوٹ گئے ، وہ علم سے کورے ہو گئے اور انہیں ہر میدان میں شکست پر شکست ہوئی حالانکہ ان کا مقصد کیسا اعلیٰ تھا۔ان کے مقابل پر دیکھو عیسائیوں کا مقصد کتنا غلط تھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس دعوی پر جو عیسائی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے آسمان پھٹ جائے 2۔عیسائی ایسے خطر ناک مقصد کے لئے کھڑے تھے اور مسلمان اس مقصد کے لئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا پیدا ہی اس مقصد کے لئے کی گئی ہے۔چنانچہ حدیث قدسی صلى الله ہے لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک 3 اگر محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود نہ ہوتا تو دنیا پیدا