سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 366

سيرة النبي عمال 366 جلد 4 الله صحابہ سمیت مدینہ ہجرت کر کے آگئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے لئے جو تاج تیار کروایا جا رہا تھا وہ دھرا کا دھرا رہ گیا کیونکہ جب انہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیا تو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اُس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیدا ہوسکتی تھی تو یہی کہ محمد ﷺ فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن مسلمانوں میں جو نہی بادشاہت قائم ہوئی اور ایک نیا نظام انہوں نے دیکھا تو انہوں نے رسول کریم ع سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دیئے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے؟ آپ کے بعد اسلام کا کیا حال ہوگا اور اس بارہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیئے ؟ عبداللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا اور اس کے لئے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کر سکتا ہے تو وہ ابوبکر ہے اور رسول کریم علیہ کے بعد مسلمانوں کی نظر اسی کی طرف اٹھتی ہے اور وہ اسے سب دوسروں سے معزز سمجھتے ہیں۔پس اُس نے اپنی خیر اسی میں دیکھی کہ ان کو بدنام کر دیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے گرا دیا جائے بلکہ خود رسول کریم ﷺ کی نگاہ سے بھی گرادیا جائے۔اور اس بد نیتی کے پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر گندہ الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں اشارۃ بیان کیا گیا ہے اور حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔عبداللہ بن ابی بن سلول کی اس میں یہ غرض تھی کہ اس طرح حضرت ابو بکر ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہو جائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم اللہ سے بھی خراب ہو جائیں گے اور اس نظام کے قائم