سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 353

سيرة النبي علي 353 جلد 4 منہ پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ بات تک نہیں کرسکتا۔جب ہم دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کا مجزہ یہ ہے کہ جو شخص ان کی غلامی اور اتباع کرتا ہے خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اُس پر اترتا ہے اور زمین و آسمان کا خدا اُس سے ہمکلام ہوتا ہے۔تو کیا ہے کوئی ہندو جو کہے کہ میں اس سے بڑھ کر اپنے پیشوا کا معجزہ پیش کر سکتا ہوں؟ یا ہے کوئی عیسائی جو کہے کہ ان کے مسیح کی اتباع سے یہ نعمت انسان کو حاصل ہو سکتی ہے؟ سب دم بخود ہو جاتے ہیں کیونکہ محمد نے کی غلامی کے سوا یہ نعمت کسی مذہب میں رہ کر انسان کو نصیب نہیں ہو سکتی۔اسی طرح جب ہم قرآن کریم کے معجزات دنیا کے سامنے پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ دنیا کی تمام پارلیمنٹیں اور دنیا کے تمام فلاسفر اور دنیا کے تمام مدبر اور عظمند سب مل کر جو تعلیمیں تجویز کر ر ہے اور سینکڑوں سال غور کرنے کے بعد انہیں لوگوں کی کامیابی کا ذریعہ بتا رہے ہیں وہ ہمارے اُمّی آقا اور سردار کی اس تعلیم کے مقابلہ میں جو اس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے پیش کی اگر رکھی جائیں تو خاک ہوکر رہ جاتی ہیں۔تو کس طرح وہ عیسائی جو دوسروں پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کر رہے ہوتے ہیں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور انہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ واقعہ میں قرآن کریم جس تعلیم کو پیش کرتا ہے وہی تعلیم اصلی اور اعلیٰ ہے۔پھر کس طرح طلاق کے متعلق غیر تو الگ رہے مسلمان بھی بہانے بنانے لگ گئے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی یہ تشریح ہے اور اس کی وہ تشریح ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو آکر بتایا کہ طلاق بھی ایک ضروری چیز ہے اور جس عورت کو طلاق دی جائے وہ حسبِ منشا دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔کیونکہ رسول کریم علی نے یہ تعلیم دی اور آپ نے جو کچھ کہا وہ بالکل سچ ہے۔لوگوں نے اس بات کو سنا اور حقارت کی ہنسی ہنسے مگر کس طرح آج ایک زبر دست بادشاہ نے جس کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا اسی مسئلہ میں یورپ کے خیالات کی غلطی ثابت کرنے کیلئے اپنی بادشاہت چھوڑ دی۔پادریوں نے بھی زور دیا کہ وہ بادشاہت نہ چھوڑے، مدبروں