سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 20

سيرة النبي علي 20 20 رسول کریم علیہ کے تو کل کا واقعہ حضرت مصلح موعود 31 مارچ 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں رسول کریم ﷺ کے تو کل کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں:۔” جب آپ حضرت ابو بکر کے ساتھ غارثور میں گئے تو دشمن اس قدر سر پر آ گیا کہ ذرا سر جھکا تا تو دیکھ سکتا تھا۔غار ثور ایک اچھی کھلی جگہ ہے اور باہر کھڑے ہو کر اگر دیکھا جائے تو اندر بیٹھا ہوا آدمی صاف نظر آ سکتا ہے۔دشمن اس غار کے بالکل منہ پر کھڑا تھا اور اتنا قریب کہ اگر ذرا بھی سر جھکائے تو دیکھ لے۔اُس وقت حضرت ابو بکر کے دل میں گھبراہٹ محسوس ہوئی لیکن اپنی جان کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی جان کے لئے۔آپ نے سوچا کہ دشمن سر پر ہے، بظاہر اب پکڑے جانے میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں ہوسکتی۔غار کا منہ کھلا ہے اور ہم بالکل سامنے ہیں۔لیکن رسول کریم علیہ جانتے تھے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت ہیں اس لئے آپ نے كما لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا 1 چونکہ رسول کریم ﷺ کی نظر حضرت ابو بکر سے بہت زیادہ دور رس اور تیز تھی اس لئے وہ ان باتوں کو بھی دیکھ رہے تھے جو حضرت ابو بکر کو نظر نہ آتی تھیں۔یوں حضرت ابو بکر کی نظر بھی بہت تیز تھی۔ایک دفعہ رسول کریم نے ایک خطبہ بیان کیا کہ اب مسلمانوں کے لئے فتوحات کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔یہ سن کر آپ رونے لگ گئے۔یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ دیکھو! بڈھے کی مت ماری گئی۔رسول کریم علیہ فتوحات کی بشارت دیتے ہیں اور یہ رو رہا ہے لیکن آپ نے بتایا کہ جب امت کو فتح حاصل ہو جائے تو نبی کا کام ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ! جلد 4