سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 314
سيرة النبي مله 314 جلد 4 بہت محبت کرتے تھے چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ پیارا ابوبکر ہے اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔پھر آپ نے فرمایا سب کھڑکیاں بند ہو جائیں گی صرف ابو بکر کی کھڑ کی کھلی رہے گی 2۔ایسا فرمانا بطور پیشگوئی کے تھا کہ ابوبکر خلیفہ ہو کر نماز پڑھانے کیلئے کھڑکی سے مسجد میں داخل ہوا کریں گے۔پس رسول کریم ﷺ کو جو محبت حضرت ابو بکر سے تھی اور جو ابو بکر کو رسول کریم ﷺ سے تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابو بکر کا درجہ کس قدر بلند تھا۔لوگوں نے حضرت ابوبکر سے پوچھا آپ اس بشارت نصرت پر کیوں روئے؟ آپ نے کہا خدا کے نبی دین پھیلانے کیلئے آتے ہیں جب دین کی ترقی ہو گئی تو آپ بالضرور اپنے مولیٰ کے حضور واپس چلے جائیں گے۔اسی لئے حضرت ابوبکر نے قرآن کی یہ آیت سن کر کہا کہ يَارَسُولَ اللہ ! ہماری جانیں، ہمارے ماں باپ کی جانیں، ہمارے بیوی بچوں کی جانیں آپ کی جان پر قربان ہوں۔اب اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صحابہ نہیں سب سے بہتر قرآن کریم کو سمجھنے والے تھے۔رسول کریم ﷺ کی جب وفات ہوئی تو اُس وقت حضرت ابوبکر صدیق باہر تھے۔حضرت عمرؓ کو جب علم ہوا کہ رسول کریم علاوہ فوت ہو چکے ہیں تو آپ میان سے تلوار نکال کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں تو میں تلوار سے سر اڑا دوں گا رسول کریم یہ فوت نہیں ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے ہیں جیسا کہ حضرت موسی اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے تھے۔اور حضرت عمرؓ کی اس بات کا اثر تمام مسلمانوں پر ہوا۔ایک صحابی مسلمانوں کی حالت دیکھ کر بہت گھبرائے۔وہ بہت سمجھدار تھے انہوں نے کہا دوڑ کر جاؤ اور حضرت ابوبکر کو خبر کر دو کہ مسلمان بگڑ رہے ہیں جلدی آئیں۔پس ابوبکر جو اتفاق سے باہر گئے ہوئے تھے فوراً پہنچے اور آپ کے پاس گئے اور کپڑا چہرے پر سے ہٹایا ، زیارت کی اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں خدا تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔ایک آپ کی موت اور