سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 313
سيرة النبي علي 313 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہ کی حالت 27 دسمبر 1936ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر مستورات سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔وو صلى الله رسول کریم میے کے ارشادات کو وہی لوگ جان سکتے تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں رسول کریم علی اللہ کی خدمت میں گزاریں یعنی صحابہ رسول کریم۔جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ میں ایک شور پڑ کیونکہ رسول کریم ﷺ کی وفات اچانک ہوئی۔ان صحابہ کو خبر نہ تھی کہ آپ کی وفات اس قدر جلدی ہو جائے گی۔وفات کے قریب حضور انور علیہ السلام پر یہ سورۃ نازل ہوئی إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - 1 یعنی اے لوگو ! جب تم دیکھو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگ گئے تو خدا تعالیٰ کی تسبیح کرو ساتھ حمد اپنے رب کی۔اور غفران و حفاظت مانگو یقیناً وہ ہے رجوع برحمت ہونے والا۔یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ تو خدا کے قرب میں حاضر ہونے والا ہے اور کامیابی کا زمانہ آ گیا۔اس پر صحابہ بہت خوش ہوئے مگر حضرت ابوبکر صدیق رو پڑے اور اس قدر روئے کہ گھیگی بندھ گئی۔پھر حضرت ابو بکر سنبھل کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے يَارَسُولَ الله ! ہم اپنی جانیں، اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچوں کی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔لوگ حیران تھے اور کہتے تھے کہ بڑھے کی عقل کو کیا ہو گیا ہے۔لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس کو ابو بکر نے خوب سمجھا۔رسول کریم ﷺ حضرت ابو بکر سے