سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 14

سيرة النبي علي 14 جلد 4 پاس روپیہ جمع کرا دیا جائے یا مثلاً یہ قانون تھا کہ جھنڈا فلاں شخص اٹھائے مگر ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ اگر کوئی کسی کو قتل کرنا چاہے تو وہ نہ کر سکے۔پس گوان میں تنظیم کا ایک رنگ تھا مگر افراد کی آزادی پر حد بندی کے لئے نہیں بلکہ اپنے شہر یا قبائل کی حفاظت کے لئے۔ایسے ملک میں رسول کریم میلے کے دعویٰ نبوت کرنے کے یہ معنے تھے کہ آپ کی جان کی اُس وقت کوئی بھی قیمت نہ تھی۔اور اگر کوئی شخص نقصان پہنچانا چاہتا تو اُسے اُس کے ارادہ سے کوئی شخص نہ روک سکتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ بتلانا چاہتا تھا کہ مجھے اپنے دین کی اشاعت کے لئے کسی انسانی مدد کی ضرورت نہیں۔اور چونکہ رسول کریم افضل الانبیاء اور سید الرسل ہیں اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوتے جو باقی انبیاء کے حالات زمانہ سے ممتاز ہوتے۔لوگ کہتے ہیں کہ باقی انبیاء کو بھی ابتلاؤں سے گزرنا پڑا۔یہ ٹھیک ہے مگر ان کے زمانہ کے ابتلا اس حد تک نہیں پہنچے جس حد تک رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ابتلا تھے۔“ ( الفضل 23 مارچ 1933 ء )