سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 13

سيرة النبي علي 13 جلد 4 وو رسول کریم ﷺ کے ابتلا اور نصرت الہی ابتلا اور حضرت مصلح موعود نے 17 مارچ 1933 ء کو بمقام لا ہور خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔حقیقی امداد اور نصرت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام حکومتوں سے آزاد جگہ پیدا کیا۔اگر رسول کریم کسی منظم حکومت کے ماتحت ہوتے تو چاہے وہ حکومت دشمن بھی ہوتی پھر بھی دشمن کی حکومت ایک رنگ حفاظت کا اپنی رعایا کو ضرور دیتی ہے۔مثلاً یہی کہ ایسی حکومت میں بھی ہر شخص ایذا پہنچانے کا مجاز نہیں ہوسکتا۔بلکہ اگر حکومت دشمن ہو تو وہ یہی چاہے گی کہ میں خود سزا دوں، یہ نہیں کہ خالد بکر جو اٹھے فساد برپا کرنا شروع کر دے۔اس طرح حکومت کی تنظیم میں فرق پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔مثلاً افغانستان میں ہی ہمارے بعض احمدی بھائی سنگسار کئے گئے مگر حکومت نے یہ فعل خود کیا دوسروں نے نہیں۔پس باجود اس کے کہ اُس وقت کی حکومت افغانستان کا فعل نہایت ہی ظالمانہ اور عدل و انصاف کے خلاف تھا پھر بھی اس نے اس حد تک کیا کہ ظلم بھی اپنے ہاتھ سے کیا دوسروں کے ذریعہ نہیں۔لیکن رسول کریم ﷺ کو جو آخری ہدایت نامہ دے کر بھیجا گیا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کامل طور پر اسی کی تائید و نصرت سے پھیلے انسانی ہاتھ کا اس میں دخل نہ ہو۔تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے ملک میں پیدا کیا جس میں کوئی بھی حکومت نہ تھی۔اس میں شبہ نہیں کہ عرب کے لوگ آپس میں بعض موقعوں پر مشورہ کر لیا کرتے تھے مگر کوئی ایسا قانون نہ تھا جس میں افراد، افراد کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔بے شک ان میں یہ قانون تھا کہ لڑائی سے پہلے فلاں شخص کے