سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 257

سيرة النبي عمال 257 جلد 4۔با وجود اس کے رسول کریم ﷺ نے اس زمانہ کے لوگوں کی طرح یہ نہیں کیا کہ دنیا کی ہر شے کو مذہب کا حصہ قرار دے دیا ہو۔مثلاً آپ کے متعلق واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ کچھ لوگ کھیتی باڑی کر رہے تھے۔آپ پاس سے گزرے تو وہ کر اور مادہ پودوں کو ملا رہے تھے آپ نے فرمایا کیا حرج ہے اگر نہ لگاؤ۔لوگوں نے لگانے چھوڑ دیئے تو دوسرے سال پھل بہت کم آیا۔آپ نے ان درختوں کو دیکھ کر دریافت فرمایا تو لوگوں نے کہايَارَسُولَ اللهِ ! آپ ہی نے فرمایا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے حکم نہیں دیا تھا آپ لوگ اپنی دنیاوی باتوں کو مجھ سے اچھا جانتے ہو 3۔اب گویا رسول اللہ نے مادیات کو مذہب سے جدا کر دیا۔وہ زبان بھی خدا کے رسول کی زبان تھی مگر باوجود اس کے کہ وہ خدا کے رسول کی زبان تھی آپ نے مادیات کو مادیات قرار دے کر فرمایا کہ تم ان باتوں کو زیادہ جانتے ہو مگر آج کل کے مولوی تو ایسا کرتے ہیں کہ خواہ اُن کے منہ سے انہونی بات بھی نکلے اس کے نہ ماننے سے اسلام کے دائرہ سے خارج اور کافر و مرتد ہونے کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔دوسری طرف مغربی گروہ ہے اس کے نزدیک مذہب پر نہ ایمان لانا ضروری ہے، نہ ان کے نزدیک آپ کی تعلیم کی عزت ہے، نہ اخلاق کی حرمت، وہ ہر شے کو مادی قرار دیتے ہیں یہاں تک کہ اُن کے فلاسفروں نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ خدا نے دنیا کوکس طرح پیدا کیا بلکہ یہ ہے کہ انسان نے خدا کو کس طرح پیدا کیا۔ان کے نزدیک خدا کا سوال انسانی ارتقاء کا نتیجہ ہے اور یہ کہ بے شک خدا کا وجود ایک حقیقت ہے لیکن دماغی ترقی کی وہ انتہائی کڑی ہے اور کچھ نہیں۔ان کے نزدیک انسان نے اپنے لئے ایک اچھا نمونہ تلاش کرنا چاہا جب وہ انسانوں میں ایک عمدہ نمونہ تلاش نہ کر سکے تو انہوں نے انسانوں سے باہر ایک ذہنی نقشہ تیار کیا۔پہلی کوشش انسان کی ایسی کامیاب نہ تھی مگر جوں جوں وہ زیادہ غور کرتا گیا زیادہ ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ اس نے ایک کامل نقشہ تیار کر لیا اُس کا نام خدا ہے اور ہر انسان کا فرض ہے کہ اس کا حکم مانے یعنی اس کی نقل کرنے کی