سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 242

سيرة النبي عمال 242 جلد 4 خواب آیا ہوتا وہ بیان کرتے اور آپ تعبیریں بتاتے ، اس کے بعد جنہیں کوئی دوسری حاجتیں ہوتیں وہ آپ کے سامنے اپنی حاجات بیان کرتے اور آپ مناسب مشورے دیتے۔پھر صحابہؓ کو آپ قرآن کی تعلیم دیتے۔بعض کو حفظ کراتے اور بعض کو معانی بتاتے۔پھر مقدمات والے آجاتے اور آپ ان کے جھگڑوں کو سنتے اور فیصلہ کرتے۔مقدمات سننے کے بعد ظہر کا وقت آجاتا ہے اور آپ کھانا کھانے اندر تشریف لے جاتے ہیں۔اس کے بعد ظہر کی نماز ادا کرنے کیلئے نکلتے ہیں۔ظہر کی نماز کے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، درس و تدریس ہوتا ہے، اسلامی ضروریات پر مشورے ہوتے ہیں ، قانون کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، افتاء کا کام کیا جاتا ہے اسی میں عصر کا وقت آجاتا ہے اور آپ عصر کی نماز پڑھانے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر یا تو نصائح کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے یا فوجی مشقیں ہونے لگتی ہیں کیونکہ بالعموم عصر کے بعد رسول کریم ﷺ صحابہ سے فوجی مشقیں کراتے۔کہیں تیر اندازی ہوتی ، کہیں کشتی ہوتی ، کہیں گھڑ دوڑ ہوتی۔اسی طرح بالعموم ظہر سے پہلے اور اشراق کے بعد رسول کریم بازار تشریف لے جاتے اور بھاؤ وغیرہ معلوم کرتے اور دیکھتے کہ کہیں دکاندار دھو کا تو نہیں کر رہے یا لوگ دکانداروں پر تو ظلم نہیں کر رہے اور عصر کے بعد وعظ ونصیحت کا سلسلہ شروع ہوتا یا صحابہ کو فوجی مشقیں کرائی جاتیں اور انہیں جنگ کیلئے تیار کیا جاتا۔گویا اُس وقت رسول کریم کے جرنیل کے فرائض سرانجام دیتے۔پھر مغرب کی نماز پڑھا کر کھانا کھا کر آپ مسجد میں آجاتے اور مجلس لگ جاتی۔پھر عشاء تک یا تو مقدمات کے تصفیے ہوتے یا شکایات سنی جاتی ہیں یا تعلیم دی جاتی ہے اسی دوران میں عشاء کی نماز کا وقت آجاتا ہے اور عشاء کی نماز پڑھ کر اور نوافل سے فارغ ہو کر آپ سو جاتے۔اور آدھی رات کے بعد پھر اٹھ بیٹھتے اور اسی کام کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔غرض اس زندگی میں ایک منٹ بھی تو ایسا نہیں آتا جسے ہمارے ہاں گئیں ہانکنے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے اور نہایت قیمتی وقت محض بکو اس میں ضائع کر دیا جاتا ہے صلى الله