سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 199
سيرة النبي علي 199 جلد 4 رسول کریم ہے کے بارہ میں الزامات کا جواب 66 حضرت مصلح موعود نے مجلس احرار کا مباہلہ کے متعلق نا پسندیدہ رویہ کے عنوان سے 30 اکتوبر 1935 ء کو مضمون تحریر فرمایا جو 2 نومبر 1935ء کی الفضل میں شائع ہوا اس مضمون میں آپ احراریوں کے جھوٹے الزامات کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔میں امید کرتا ہوں کہ سب حق پسند احباب اب معاملہ کو سمجھ گئے ہوں گے اور وہ احرار پر زور دیں گے کہ مباہلہ کی تفصیلی شرائط جماعت احمدیہ کے نمائندوں سے طے کر کے تاریخ کا تعین کریں اور اس طرح خالی اخباری گھوڑے دوڑا کر اس نہایت اہم امر کو ہنسی مذاق میں نہ ٹلا ئیں۔الله اے بھائیو! احرار کے مذکورہ بالا جواب کی حقیقت سے آپ کو آگاہ کرنے کے لئے مباہلہ کا انتظار کئے بغیر میں اُس خدائے قہار و جبار، مالک ومختار، مُعِزّ و مُذِل، مُحْي اور ممیت کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میرا اور سب جماعت احمدیہ کا بحیثیت جماعت یہ عقیدہ ہے ( اور اگر کوئی دوسرا شخص اس کے خلاف کہتا ہے تو وہ مردود ہے اور ہم میں سے نہیں ) کہ رسول کریم علی افضل الرسل اور سید ولد آدم تھے۔یہی تعلیم ہمیں بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے اور اسی پر ہم قائم ہیں۔رسول کریم ﷺ کی امت اپنے آپ کو جانتے ہیں اور سب عزتوں سے زیادہ اس عزت کو سمجھتے ہیں۔بے شک ہم بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا کا مامور اور مرسل اور دنیا کے لئے ہادی سمجھتے ہیں لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کو جو