سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 198

سيرة النبي عمال 198 جلد 4 الله اس خیال سے کہ یہ پرانے دوست ہیں انہیں ٹھوکر نہ لگے چاہا کہ اپنی صداقت کے پہلے دلائل پیش کریں مگر رسول کریم ﷺ نے جونہی کوئی دلیل دینی چاہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ آپ کوئی اور بات نہ کریں آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ کا ایسا دعویٰ ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پیشتر اس کے کہ آپ اپنی صداقت کی کوئی دلیل دیں آپ گواہ رہیں کہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں 2۔پھر انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ! میں دلیلیں سننا نہیں چاہتا تھا تا کہ میرا ایمان ناقص نہ ہو۔میں نے آپ کی زندگی دیکھی ہوئی ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ جس شخص نے چالیس سال تک پاکیزہ زندگی بسر کی ہو اور انسانوں پر جھوٹ نہ بولا ہو وہ خدا کے متعلق کس طرح جھوٹ بول سکتا ہے۔تو استقلال، ہمت، جرات، قربانی ، ایثار، عدل اور انصاف ایسی چیزیں ہیں کہ جس انسان میں یہ پائی جائیں اُس کے متعلق انسان شکوک وشبہات میں مبتلا نہیں رہتا بلکہ اس کی (الفضل 31اکتوبر 1935ء) 66 عملی زندگی کا خود مداح بن جاتا ہے۔“ 1 بخاری کتاب التفسير تفسير سورة اقرا باسم ربك الذى خلق صفحہ 886 حدیث نمبر 4953 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية صل الله 2 السيرة الحلبية الجزء الاول باب ذکر اول الناس ایمانا به ما را به صفحه 446 مطبوعہ بیروت۔2012 ، الطبعة الاولى