سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 178

سيرة النبي عمال 178 جلد 4 حرام زادہ کہتا تھا۔یہ بھی گالی ہو گی جو اس نے دوسرے کو دی گو دوسرے کی زبان سے دلائی۔پس اگر یہ تصفیہ کا طریق جو میں نے بیان کیا ہے اس پر مخالف عمل نہ کریں تو میں کہوں گا ایسے اعتراض کرنے والے در حقیقت رسول کریم علیہ کی خود ہتک کرتے ہیں گواپنے منہ سے نہیں بلکہ ہماری طرف ایک غلط بات منسوب کر کے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علماء جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو، پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں۔ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزار میدان میں نکل آئیں گے۔دونوں مباہلہ کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں خدا تعالیٰ اسے اپنے عذاب سے ہلاک کرے۔ہم دعا کریں گے کہ اے خدا !تُو جو ہمارے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں واقعی الله رسول کریم ﷺ کی عظمت و محبت نہیں اور ہم آپ کو سارے انبیاء سے افضل و برتر یقین نہیں کرتے اور نہ آپ کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے بلکہ درجہ میں آپ کو رسول کریم ﷺ سے بلند سمجھتے ہیں تو اے خدا ! ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو اس جہان میں ذلیل و رسوا کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک کر۔اس کے مقابلہ میں وہ دعا کریں کہ اے خدا! ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ع کی ہتک کرتے ، آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور آپ کے درجہ کو گرانے اور کم کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو تو اس دنیا میں ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو ذلیل ورسوا کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک کر۔یہ مباہلہ ہے جو وہ ہمارے ساتھ کر لیں اور خدا پر معاملہ چھوڑ دیں۔پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں ایسے علماء کا اکٹھا کرنا جو ہمارے سلسلہ کی کتب سے واقفیت رکھتے ہوں آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ کہلانے والوں کے لئے کوئی مشکل نہیں بلکہ معمولی بات ہے۔اور ہم تو ان سے بہت تھوڑے ہیں مگر پھر بھی ہم تیار ہیں کہ پانچ سو