سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 177
سيرة النبي عمال 177 جلد 4 جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی مقدس مذہبی کتاب ہاتھ میں لے کر اُس خدا کی جس کے ہاتھ میں اُن کی جان ہے قسم کھائیں اور یہ قسم کھا کر کہ اگر وہ جھوٹ بولیں تو اُن پر اور ان کے بیوی بچوں پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو بتائیں کہ جب کبھی احمدیوں سے انہیں بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے احمدیوں کے دلوں کو کیسا پایا ہے؟ کیا رسول کریم ﷺ کا عشق اور آپ کی محبت انہوں نے محسوس کی یا رسول کریم ﷺ کی ہتک کا انہیں شبہ ہوا ؟ اگر احمدی بالفرض عام مسلمانوں کے سامنے رسول کریم نے کی ہتک کرنے سے اس خیال سے بچتے ہیں کہ اس طرح مسلمان ناراض ہو جائیں گے تو ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں کے سامنے تو وہ نڈر ہو کر رسول کریم ﷺ کی نَعُوذُ بِاللهِ ہتک کرتے ہوں گے پس غیر احمدیوں کے متعلق تو کہا جا سکتا ہے کہ احمدی منافقت سے کام لے کر انہیں خوش کرنے کے لئے ان کے سامنے رسول کریم ﷺ کی تعریف کر ہیں مگر ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں کے متعلق یہ بات نہیں کہی جاسکتی۔پس میں کہتا ہوں تصفیہ کا آسان طریق یہ ہے کہ ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں میں سے ایک ہزار آدمی چنا جائے اور وہ مؤکد بعذاب حلف اٹھا کر بتائیں کہ احمدی عام مسلمانوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کے متعلق زیادہ جوش رکھتے ہیں یا کم؟ اگر ایک ہزار سارے کا سارا یا اس کا بیشتر حصہ کیونکہ ایک دو جھوٹ بھی بول سکتے ہیں یہ گواہی دے کہ اس نے احمدیوں کو رسول کریم ﷺ کی عزت کرنے والا اور آپ کے نام کو دنیا میں بلند کرنے والا پایا تو اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کو اپنے فعل پر شرمانا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو ہمارے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں وہ بار بار ہمارے متعلق اس صلى اتہام کو دہرا کر خود رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے۔جیسے کوئی شخص کسی کو اپنے منہ سے تو حرام زادہ نہ کہے مگر یہ کہہ دے کہ فلاں شخص آپ کو