سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 168

سيرة النبي علي 168 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی شجاعت اور آپ کی حفاظت حضرت مصلح موعود 9 اگست 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔ہمیشہ یاد رکھو کہ کچھ لیڈر ہوتے ہیں اور باقی متبع۔اور زندہ قومیں جانتی ہیں کہ لیڈروں کی قیمت کیا ہوتی ہے۔جب کسی قوم کے متعلق یہ معلوم کرنا چا ہو کہ وہ زندہ ہے یا مردہ تو یہ دیکھ لو کہ وہ اپنے لیڈروں کی عزت کرتی ہے یا نہیں۔جو شخص اپنے سر کو نہیں بچاتا وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اگر سر سلامت ہو تو ٹانگیں خواہ ٹوٹی ہوئی ہوں پیٹ میں گولی لگی ہوئی ہو پھر بھی انسان کچھ کام کر سکتا ہے مگر جب سر نہ ہو تو باقی سب کچھ سلامت ہونے کے باوجود انسان کچھ نہیں کر سکتا۔جاہل لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے لیڈروں کو پہلے قربان کریں وہ اس کا نام نیک نمونہ رکھتے ہیں مگر یہ بے وقوفی کی علامت ہے۔اگر کوئی بزدل ہے تو وہ لیڈری کا مستحق ہی نہیں لیکن جب کسی کو لیڈر بنا لیا جائے تو پھر اسے پہلے قربان کرنے کی کوشش کرنا حماقت ہے۔پس تمہاری پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ ایسے لوگوں کو لیڈر بناؤ جو مخلص ، قربانی کرنے والے اور فرض کی خاطر جان دینے سے ڈرنے والے نہ ہوں، لیڈری کے لئے ایسے ہی لوگ تلاش کرو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا 1۔جو اہل ہوں اُن کو لیڈر بناؤ اور جب بنا لو تو پھر اس بات کو کبھی فراموش نہ کرو کہ لیڈر بمنزلہ دماغ کے ہے اور دوسرے لوگ ہاتھ پاؤں ہیں اس لئے اُس کی صلى الله بہادری کا امتحان نہ کرو۔رسول کریم ماہ سے زیادہ بہادر کون ہوسکتا تھا۔جنگ حنین کے موقع پر غفلت کی وجہ سے جب اسلامی لشکر پراگندہ ہو گیا اور صرف بارہ آدمی آپ