سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 167

سيرة النبي علي 167 جلد 4 دے لیتی تھیں ان کو یہ احساس ہوا کہ اب بات حد سے بڑھتی جا رہی ہے۔ایک ان میں سے اٹھا اور اپنے ایک گہرے دوست کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میں تم پر اعتبار کر کے ایک خاص مشورہ کے لئے آیا ہوں۔تم کو معلوم ہے کہ مکہ والوں نے ایک معاہدہ کر کے اسے کعبہ میں لٹکا رکھا ہے کہ مسلمانوں کے پاس نہ کوئی چیز فروخت کی جائے اور نہ ان سے خریدی جائے۔اس نے کہا ہاں۔پھر اس نے کہا غور کرو آخر ان کا کیا قصور ہے کہ انہیں اس قدر ایذائیں دی جاتی ہیں۔جب ہم لوگ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں اور بیوی بچوں میں دن گزار رہے ہیں تو ان کو بھوکے پیاسے مارنا بہت بڑا ظلم ہے جسے میں تو برداشت نہیں کر سکتا۔اس نے آدمی بھی ایسا ہی چنا تھا جس کی طبیعت سے وہ واقف تھا۔اُس نے جواب میں کہا کہ میں بھی یہ برداشت نہیں کرسکتا۔پھر اس نے پوچھا کوئی اور ایسے لوگ بتاؤ جو ہمارے ہم خیال ہوں۔اس نے بعض نام بتائے چنانچہ وہ ان کے پاس گئے انہوں نے بھی اتفاق کیا اور ان سب نے تلوار میں نکال لیں اور کہا کہ خواہ جان چلی جائے ہم اس معاہدے کو توڑتے ہیں اور جب انہوں نے دلیری سے کعبہ میں جا کر اس معاہدے کو پھاڑ دیا 2۔تو سینکڑوں ہزاروں شریف الطبع لوگ جو ظالموں کے رعب میں تھے سامنے آ گئے اور ان کے ہم صلى الله خیال ہو گئے اور اس طرح رسول کریم ﷺ ، آپ کے رشتہ دار اور سب صحابہ اس وادی ( الفضل 31 جولائی 1935ء) 66 سے باہر آگئے۔“ 1: بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم باب مناقب سعد بن ابی وقاص صفحہ 628 حدیث نمبر 3728 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 2: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول حديث نقض الصحيفة صفحه 428،427 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى