سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 111
سيرة النبي علي 111 جلد 4 سيرة النبی علیہ کے جلسوں کے اثرات 27 دسمبر 1933ء کو جلسہ سالانہ قادیان سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔یوم النبی ﷺ کی تقریب تو کئی سال سے منائی جارہی ہے۔1928ء میں پہلی دفعہ یوم النبی ﷺے منایا گیا تھا جس کو اب 6 سال ہو چکے ہیں۔ان جلسوں کے متعلق سالِ حال کا تجربہ پہلے سے بھی زیادہ شاندار اور امید افزا ہے۔خصوصاً پنجاب کے باہر کے علاقوں میں یوم النبی ﷺ کے جلسے خاص اثر رکھتے ہیں۔خاص کر بنگال میں یہ تحریک اس طرح گھر کر رہی ہے کہ ممکن ہے یہ ہندومسلمانوں کی مشترکہ تحریک بن جائے۔بڑے بڑے معزز تعلیم یافتہ اور بااثر ہندو نہ صرف پرائیویٹ گفتگو میں بلکہ پبلک تقریروں میں بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوستان کے متحد ہونے اور ہندو مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے اس سے بہتر تحریک اور نہیں ہو سکتی۔ایک مشہور ہندو لیڈر مسٹر بین چندر پال صاحب نے ایک دفعہ کہا ہندو مسلمانوں کو اس شخص کا ممنون ہونا چاہئے جس نے یہ تحریک جاری کی ہے۔اگر یہ تحریک آج سے ہیں سال پہلے جاری کی جاتی تو ہندو مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی یہ حالت نہ ہوتی جو اب ہے۔اور اگر اس تحریک کو جاری رکھا گیا تو امید ہے کہ اہلِ ہند کے باہمی تعلقات میں خوشگوار تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔اور بھی کئی ایک بڑے بڑے لوگ اس تحریک کے مفید اثرات سے متاثر ہو چکے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ یہ تحریک عام ہو جائے۔“ (الفضل 7 جنوری 1934ء) 66