سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 84
سيرة النبي عمال 84 جلد 3 ہیں اس وقت عرب خصوصاً اور دوسرے ممالک کے لوگ عموماً حریت ضمیر کی قدر نہ جانتے تھے۔اُس وقت قرآن کریم نے اعلان کیا کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ 51 دین کے بارہ میں کچھ جبر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہدایت اور گمراہی میں خدا تعالیٰ نے نمایاں فرق کر کے دکھا دیا ہے۔پس جو سمجھنا چاہے وہ دلیل سے سمجھ سکتا ہے اس پر جبر نہیں ہونا چاہئے۔ایک دفعہ عربوں نے خواہش کی کہ آپ سے سمجھوتہ کر لیں اور وہ اس طرح کہ ہم اللہ صلى الله کی پرستش کرنے لگ جاتے ہیں اور تم بتوں کی پرستش شروع کر دو۔اس پر رسول کریم ہے نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق فرمایا کہ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِى دِيْنِ 52 جب میں بتوں کو جھوٹا سمجھتا ہوں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اپنے ضمیر کو قربان کر کے ان کی پرستش کروں اور تم واحد خدا کو نہیں مانتے تو تم اس کی پرستش کس طرح کر سکتے ہو۔تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور ہمارے لئے ہمارا۔عورتوں کے حقوق نواں احسان آپ کا وہ ہے جو صنف نازک سے تعلق رکھتا صلى الله ہے۔رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے عورتوں کے کوئی حقوق تسلیم ہی نہیں کئے جاتے تھے۔اور عرب لوگ تو انہیں ورثہ میں بانٹ لیتے تھے۔رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت عورتوں کے حقوق کو قائم کیا اور اعلان فرمایا کہ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ 53 عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے۔پھر آپ نے اعلان فرمایا جس طرح مردوں کے لئے مرنے کے بعد انعام ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہیں۔پھر عورتوں کے لئے جائیداد میں حصے مقرر کئے۔اس کی اپنی جائیداد مقرر کی۔انگلستان میں بھی آج سے 20 سال قبل عورت کی کوئی جائیداد نہ کبھی جاتی تھی۔جو کچھ اسے باپ سے ملتا وہ بھی اس الله کا نہ ہوتا۔مگر رسول کریم ﷺ نے آج سے تیرہ سو سال قبل یہ حکم دیا کہ عورت اپنے مال کی آپ مالک ہے۔خاوند بھی اس کی مرضی کے خلاف اس سے مال نہیں