سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 83
سيرة النبي عمال 83 جلد 3 عليسة عبادت کا وقت ہو گیا اور عبادت کے لئے مسجد سے باہر جانے لگے۔رسول کریم علی نے انہیں فرمایا یہاں ہی عبادت کر لو۔چنانچہ انہوں نے بت اپنے سامنے رکھے اور عبادت کر لی 48۔اور رسول کریم ﷺ سامنے بیٹھے دیکھتے رہے۔اب دیکھو کہ انہوں نے تو صلیب یا بزرگوں کے بتوں کی پوجا کی لیکن رسول کریم ﷺ نے انہیں مسجد میں ایسا کرنے کی اجازت دی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ سچے دل سے خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔پس ان کی اس تڑپ کی آپ نے قدر کی اور ان کی نیت کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد میں جو ذکر الہی کے لئے ہوتی ہے اپنی عبادت بجا لانے کی اجازت دی۔جنگ کے حدود دنیا میں ایک باعث فساد کا یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کسی نہ کسی وجہ سے فساد پیدا ہو جائے تو لوگ اسے قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اس وجہ فساد کو بھی دور فرمایا ہے اور جنگ میں بھی حدود قائم کر دی ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ سے حکم پا کر آپ نے فرمایا ہے کہ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ 49 کہ جب لڑائی ہو رہی ہو اور لڑنے والا دشمن لڑائی چھوڑ دے تو پھر اس سے لڑنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ یہ ایک قسم کی ندامت ہے اور اللہ تعالیٰ نادم کی ندامت کو ضائع نہیں کرتا بلکہ بخشش سے کام لیتا ہے اور رحم کرتا ہے۔اسی طرح فرمایا کہ فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِيْنَ 50 سزا انہی کو دی جاتی ہے جو ظلم کر رہے ہوں۔جو اپنی شرارت سے باز آ جائیں انہیں پچھلے قصوروں کی وجہ سے برباد نہیں کرتے جانا چاہئے۔حریت ضمیر آٹھواں احسان رسول کریم ﷺ کا یہ ہے کہ آپ نے حریت ضمیر کے اصل کو قائم کیا ہے۔علمی ترقی کی جڑ حریت ضمیر ہے۔شک پیدا ہو اور اس شک کے مطابق تحقیق کی جائے اور جو صحیح نتیجہ نکلے اس کے مطابق اپنے خیال اور اپنے عمل کو بدلا جائے یہی سب ترقیات کی کنجی ہے۔جب رسول کریم ﷺ پیدا ہوئے