سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 77

سيرة النبي عمال 77 جلد 3 دعوئی نہ کیا کرو۔پس آپ کی تعلیم مساوات کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی اور بنی نوع انسان پر ایک عظیم الشان احسان تھا۔اسی ضمن میں آپ نے خدا تعالیٰ سے حکم پا کر کہا يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ آتْقُكُمْ 43 تو کہہ دے کہ قو میں اس لئے بنائی گئی ہیں کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں جس طرح دو مقابل کی ٹیمیں ہوتی ہیں۔قومی مساوات کے ساتھ ساتھ آپ نے تمدنی درجہ میں بھی سب کو برابر کر دیا اور فرمایا سوائے ایسی قوموں کے جن کو حرام و حلال کا پتہ نہیں ہے باقیوں سے مل کر تم کھا پی سکتے ہو۔یعنی جو صاف ستھرے لوگ ہوں یا جن کے ہاں کوئی معیار حلال وحرام کے لئے مقرر ہو ان سے کھانا پینا منع نہیں ہے۔اسی طرح احکام انصاف میں برابری رکھ کر احکام انصاف میں مساوات آپ نے مساوات کو قائم کیا۔خواہ کسی سے لڑائی ہو تو بھی اس کے متعلق انصاف کو قائم رکھا جائے گا۔مثلاً کسی مسلمان کی کسی یہودی سے لڑائی ہو تو اس لڑائی میں مسلمان کو کوئی ترجیح نہ دی جائے گی۔نہ معاملات میں اپنی قوم کو ترجیح دی جائے گی۔جیسے مثلاً یہودیوں میں حکم ہے کہ یہودی سے سود نہ لومگر غیر سے لے لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے سب بندے برابر ہیں ، نہ کسی مسلمان سے سود لو نہ کسی اور سے۔اگر سود ظلم ہے تو ایک یہودی سے لینا ایسا ہی برا ہے جیسا کہ مسلمانوں سے۔مساوات کا ایک بے نظیر سبق اسی طرح آپ نے فرمایا ہے انصر اخاک اُنصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا 44 اے مسلمان ! تو اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔یہ سن کر صحابہ حیران رہ گئے کہ مظلوم کی تو مدد کی جا سکتی ہے ظالم کی کیا مدد کی جائے اور انہوں نے کہا مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں