سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 492
سيرة النبي عليه 492 جلد 3 جواب ہے جا کر گورنر سے کہہ دو۔وہ لوگ واپس چلے آئے اور انہوں نے گورنر سے کہا که یا تو وہ شخص دیوانہ ہے اور یا خدا کا نبی۔گورنر کہنے لگا ہم انتظار کریں گے۔اگر اس کی یہ بات سچی نکلی تو وہ واقعہ میں خدا کا نبی ہوگا اور ہم اس کی اطاعت میں جلدی کریں گے۔غرض اس نے انتظار کیا۔یہاں تک کہ ایران کے جہاز وہاں پہنچے اور ایران کے بادشاہ کا خط گورنر یمن کے نام آیا۔اس زمانہ میں جیسا کہ دستور تھا گورنر چند قدم بڑھ کر آگے آیا۔اس نے ایلچی سے خط لیتے ہوئے اسے بوسہ دیا، سینہ سے لگایا اور پھر اسے کھولا۔مگر جب اس نے خط اپنے ہاتھ میں لیا تو معاً اُس کا رنگ متغیر ہو گیا کیونکہ اس پر اس بادشاہ کی مہر نہیں تھی جو اس وقت حکمران تھا جبکہ وہ گورنر بنایا گیا تھا بلکہ اس کے بیٹے کی مہر تھی۔اس نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا ہم نے اپنے باپ کے ظلموں کو دیکھ کر اور یہ محسوس کر کے کہ رعایا اس سے سخت تنگ ہے اسے فلاں دن قتل کر دیا ہے اور اب ہم تخت حکومت کے وارث ہیں۔گورنریمن نے جب حساب لگایا تو اسے معلوم ہوا کہ جس رات کسر کی قتل ہوا وہ وہی رات تھی جب رسول کریم علیہ نے بتلایا تھا کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔پھر آگے لکھا تھا ہمارے باپ نے عرب کے ایک مدعی نبوت کے متعلق بھی ایک ظالمانہ حکم جاری کیا تھا ہم اسے بھی منسوخ کرتے ہیں اس بارے میں قطعاً کوئی کارروائی نہ کی جائے 2۔ا صلى الله اب کجا مدینہ اور کجا مدائن ! سینکڑوں میلوں کا فاصلہ ہے۔درمیان میں بیسیوں ایسی چھاؤنیاں ہیں جو فوجوں سے پُر ہیں اور جن کا مقابلہ متمدن حکومتوں سے بھی نہیں ہوسکتا تھا۔چنانچہ قیصر کی حکومت بھی اپنی شوکت کے باوجود مدائن کو فتح کرنے سے الله قاصر رہی۔اگر رسول کریم ﷺ کے پاس تو پیں بھی ہوتیں تو کہاں تک مار کرتیں۔مگر دعا تھی جو آسمان پر گئی اور وہاں سے مدائن پر بم گرا جس نے کسریٰ کو ہلاک کر دیا۔ہوائی جہازوں کے بم اِدھر اُدھر گر سکتے ہیں مگر دعا کا ہم کبھی خطا نہیں کرتا اور ہمیشہ نشانہ :