سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 491

سيرة النبي عليه 491 جلد 3 صلى الله ہو جائیں گے تو وہ آپ کی سفارش کا وعدہ کرتے ہیں۔آپ نے پھر وہی جواب دیا اور فرمایا میں تیسرے دن اس کا جواب دوں گا۔آپ مدینہ میں تھے اور کسری مدائن میں۔مدینہ اور مدائن کے درمیان بیسیوں مضبوط قلعے تھے جن میں دس دس پندرہ پندرہ ہزار فوجی تھے۔مدائن کو فتح کرتے وقت باوجود اس کے کہ اسلامی لشکر سیلاب کی طرح بڑھتا چلا جاتا تھا پھر بھی سالہا سال لگے اور ہزار ہا مسلمان ایک ایک لڑائی میں شہید ہوئے۔مگر باوجود اس کے کہ ہزاروں آدمیوں کے مارے جانے کے بعد مدائن فتح ہوا اور باوجود اس کے کہ اس کو فتح کرنے میں سالہا سال لگے آج تک مسلمان اس فتح کو معجزہ قرار دیتے ہیں اور یورپ اس کی تو جیہیں کرتا ہے۔پس اگر اُس وقت رسول کریم ع کو وہی شوکت حاصل ہوتی جو حضرت عمرؓ کے وقت مسلمانوں کو حاصل تھی اور اگر آپ اس گستاخی کے جواب میں کسری پر حملہ بھی کرتے تو بھی مدائن کو فتح کرنے میں کئی سال لگتے۔اور ممکن تھا کہ اس فتح کے بعد کسری کسی اور علاقہ میں بھاگ جاتا یا کہیں چھپ جاتا اور اس طرح مسلمانوں کے حملہ سے محفوظ رہتا غرض انسانی تدابیر کے ساتھ اگر یہ بات ممکن بھی ہوتی تب بھی اس کے لئے سالوں چاہیں تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور جب تیسرے دن وہ لوگ جواب کیلئے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا تم جاؤ۔اس زمانہ میں کسری کی رعایا اسے خداوند کہہ کر یاد کیا کرتی تھی گویا وہ ان کا مجازی خدا تھا اور ہمیشہ بات کرتے وقت وہ کسری کو خداوند کہتے اور کہا کرتے تھے کہ ہمارا خداوند یوں کہتا ہے۔آپ نے بھی اسی تلازمہ 1 کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا جاؤ! میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ آج کی رات اس نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔وہ لوگ یہ الفاظ سن کر کانپ اٹھے اور کہنے لگے شاید یہ دیوانہ ہو گیا ہے جو کسریٰ کی طاقت سے اس قدر ناواقف انہوں نے کہا آپ اپنے آپ پر اور اپنے ملک پر رحم کریں کسری کی فوجیں عرب کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گی۔آپ نے فرمایا میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔میرا وہی ہے۔