سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 480

سيرة النبي عمال 480 جلد 3 سلطنتیں اور پہلے دینوں کی برکت مٹ جائے گی اور ترقی رک جائے گی۔(عیسائیت نے بظاہر ترقی کی ہے لیکن پہلے عیسائیت نے بذریعہ تلوار بڑھنا چاہا اور بذریعہ تلوار روکی گئی۔اب بذریعہ تبلیغ بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے تو حضرت مسیح موعود مقابلہ کیلئے پیدا ہو گئے ) اُس کی قوم میں ہمیشہ مصلح پیدا ہوتے رہیں گے۔وہ اگلے اور پچھلے لوگوں میں بمنزلہ ایک واسطہ کے ہوگا۔اُس کی تعلیم سلامتی کی تعلیم ہوگی۔وہ کسی خاص قوم کے لئے نہ ہوگی بلکہ سب کے لئے ہوگی۔اُس کا رویہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ کے طور پر ہوگا۔اور دوسری اقوام اُس کے اثر سے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کر لیں گی۔اُس کی تعلیم کے ذریعہ سے بے حکمت اور رسمی احکام کو مٹا کر با حکمت تعلیم دی جائے گی۔اُس کی تعلیم میں ہر قسم کے ضروری امور بیان ہوں گے اور وہ بالکل مکمل ہوگی جس کے بعد کسی اور تعلیم کی ضرورت نہ رہے گی۔اُس کی تعلیم کا ماحصل یہ ہوگا کہ وہ نجات کا راستہ ہر قوم اور ہر حالت کے لوگوں کے لئے کھولے گا اور افراط و تفریط اور شیطانی غلامی سے لوگوں کو بچائے گا۔(غیر الہامی مذہب کلی طور پر شیطان کے قبضہ میں ہیں) وہ فطرتِ انسانی کی نیکیوں کو ابھارے گا۔اس کی کتاب خالص الہام پر مشتمل ہوگی ایک لفظ بھی دوسرا اُس میں موجود نہ ہو گا۔وہ گزشتہ انبیاء پر سے الزامات کو دور کرے گا خصوصاً حضرت مسیح کی پاکیزگی ایک خاص نمونہ کے ذریعہ لوگوں کو عملاً دکھا دے گا۔یہ اخبار ایسی ہیں کہ جو ایک وقت میں نہیں دی گئیں۔ایک وقت میں ان کے سامان نہیں پیدا کئے گئے۔قوموں اور شہروں کا زندہ رہنا ہزاروں سال کے طبعی تصرفات کا نتیجہ ہے۔ایک خاص خلیہ کے شخص کا پیدا ہونا خاص علم الحیوانات کا نتیجہ ہے۔دشمنوں اور دوستوں کے دل میں اُن خیالات کا پیدا ہونا جو مذکور تھے خالص علم النفس کے ماتحت تغیرات کا نتیجہ ہے۔دشمنوں کا زیر ہونا خاص سیاسی تغیرات کا نتیجہ ہے۔(مسیحی کہتے ہیں کہ قیصر و کسری پہلے سے کمزور تھے۔ہم کہتے ہیں اس سے ثابت