سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 479
سيرة النبي عمال 479 جلد 3 سال بعد ہو گا۔جب مقابلہ ہو گا تو میدان اس کے ہاتھ رہے گا اور دشمن کے اکثر سردار مارے جائیں گے۔ان میں سے رئیس المکفرین عالی خاندان والا اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں اس طرح مارا جائے گا کہ اسی دشمن کے ہتھیار سے ایک شخص اس کی گردن تک سر کو ننگا کر کے اس کا سر کاٹ دے گا۔اس کا قد اونچا لیکن بدنما اونچا نہ ہو گا۔وہ چلتے وقت زور سے قدم مارے گا (زمین اس کے قدموں سے لرزے گی ) اس کا رنگ سفید لیکن سرخی مائل ہو گا۔اس کے بال گھنگر الے ہوں گے لیکن بالکل گھنگر الے نہیں، ان میں بیچ پڑے ہوں گے۔اس کا کلام شیریں ہو گا لیکن سچائی پر مشتمل ہونے کے سبب سے لوگوں کو تلخ معلوم ہو گا۔اس کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہو گا۔آخر وہ ایک دن فاران کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا مکہ پر حملہ آور ہو گا۔دس ہزار سپاہی جو نہایت نیک و پاک ہوں گے اس کے ساتھ ہوں گے اور وہ مکہ کو فتح کر لے گا۔اس کے بعد ملک اس پر ایمان لے آئے گا۔اُس کے کام ایسے شاندار ہوں گے کہ لوگ انہیں دیکھ کر عجیب کہہ اٹھیں گے۔وہ نہایت با اخلاق ہوگا اور غریب ومسکین اُس سے مشورہ کرنے میں نہ جھجکیں گے۔اُس کے کلام میں اُسے مثیل موسی کہا جائے گا۔اُس کی قوم کے کاموں سے خدا تعالیٰ خوش ہوگا۔وہ انہیں مقدس بنائے گا اور ہمیشہ انہیں مقدس بنانے کے سامان پیدا کرتا رہے گا۔اُس کے مذہب کا نام نیا ہوگا اور خدا تعالیٰ خود وہ نام انہیں دے گا اور اس میں سلامتی کا لفظ پایا جائے گا ( سلامتی کا شہزادہ یعنی سردار اسلام اس کا لفظی ترجمہ ہے ) اُس کے شہر کو ہمیشہ آباد رکھا جائے گا اور لوگ دور دور سے اُس کا قصد کر کے آئیں گے۔وہ جس طرف رخ کرے گا لوگ مرعوب ہوں گے۔قومیں اُس پر مل کر حملہ کریں گی لیکن شکست کھائیں گی۔( سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ (86)۔اور اُس کے دشمن ہلاک ہوں گے۔اُس کا مقابلہ ایک طرف شامی حکومت سے اور ایک طرف ایرانی حکومت سے یعنی قیصر و کسریٰ سے ہوگا اور دونوں شکست کھائیں گی۔اُس کے آنے کے بعد پہلی ورد