سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 476
سيرة النبي عمال 476 جلد 3 بارھویں بات یہ بتائی کہ وہ میسیج کے راستباز ہونے کا عملی ثبوت دکھائے گا یعنی صلى الله مشاہدہ کرا دے گا۔جو فوت ہو گیا اسے تو رسول کریم ﷺے دکھا نہیں سکتے تھے۔اسے اسی طرح دکھایا کہ فرمایا میری امت میں سے ایک سپہ سالار کھڑا ہو گا جس کا نام صحیح ہوگا اور اس طرح عملاً مسیح کی راستبازی کو ثابت کر دے گا۔کیونکہ اتنے بڑے آدمی کو اس سے مشابہت دینا یہی معنی رکھتا ہے کہ مسیح بھی بزرگ اور برگزیدہ ہستی تھی۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب جو مسیح موعود ہیں انہوں نے مسیح کی تصویر کھینچ کر دکھا دی۔قانون شریعت اور قانون طبعی کی اب دیکھو یہ نشان کتنا عظیم الشان ہے۔کتنا لمبا سلسلہ چلتا ہے۔حضرت با ہم مطابقت کا حیرت انگیز سلسلہ ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام تک جو دو ہزار سال کا زمانہ ہے تغیرات ہوتے رہتے ہیں۔پھر حضرت مسیح کے سلسلہ چھ سو سال کے عرصہ میں بھی تغیرات ہوتے ہیں اور آخر وہ صلى الله انسان ظاہر ہوتا ہے جو ان کا مصداق تھا۔اگر صرف رسول کریم ع دعوی کرتے اور شریعت لے آتے تو لوگ کہتے یہ کلام آپ نے خود بنالیا ہے مگر یہاں تو قانون شریعت اور قانون طبعی صدیوں ہاتھ میں ہاتھ دے کر چل رہے ہیں اور ثابت ہو رہا ہے کہ ہمارا خدا آسمان کا ہی بادشاہ نہیں بلکہ زمین کا بھی بادشاہ ہے۔قانون شریعت کہتا ہے کہ مکہ میں ایک نبی آئے گا اور قانون طبعی اس کے لئے سامان مہیا کرتا ہے۔تباہی اور ہلاکت کی آندھیاں چلتی ہیں، قوموں کی قو میں تباہ ہو جاتی ہیں ، وبائیں آتی ہیں اور قوموں کو ہلاک کر کے چلی جاتی ہیں، زمانہ کی گردشیں آتی ہیں اور قوموں کا نام ونشان مٹادیتی ہیں یہ سب کچھ ہوتا ہے مگر قریش ان تمام آفات سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ ان کی تائید ہوتی ہے۔ابرہہ مکہ پر چڑھائی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مکہ اور اہل مکہ کو میں تباہ و برباد کر دوں گا مگر خود اس کا لشکر تباہ ہو جاتا ہے اور وہ ناکام و نامرادلوٹ جاتا اور راستہ میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔کیونکہ قانون طبعی کہتا ہے کہ میں اس قوم کو نہیں مٹنے