سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 475
سيرة النبي عمال 475 جلد 3 ہی چسپاں ہوتی ہے ورنہ انجیل اور تورات میں تو حواریوں کا کلام بھی درج ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى 80 یعنی وہ اپنی ہوا و ہوس سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ کہتا ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے۔پھر آتا ہے وَاِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلمَ اللهِ 81 مشرکین میں سے اگر کوئی کہے کہ مجھے پناہ دو میں خدا کی باتیں سننا چاہتا ہوں تو تم اسے بلاؤ تا کہ وہ کلام اللہ سن لے۔گیارھویں بات یہ بتائی تھی کہ وہ میرا جلال یعنی بزرگی ظاہر کرے گا۔یہ بھی رسول کریم عملے میں موجود ہے۔سورۃ بقرۃ میں آتا ہے وَأَتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَاَيَّدُنَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ B2 یعنی ہم نے عیسی بن مریم کو کھلے کھلے نشانات 82 دیئے اور روح القدس کے ذریعہ اس کی تائید کی۔پھر آتا ہے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا - بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا 83 کہ ان لوگوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا اور نہ صلیب پر چڑھا کر مارا۔ہاں صلیب پر چڑھایا ضرور تھا اور وہ ان کے لئے مصلوب کے مشابہ بنا دیا گیا تھا۔وہ لوگ جو اس بات میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ان کو اس بات کے متعلق کوئی یقینی علم نہیں وہ صرف ایک وہم کی پیروی کر رہے ہیں۔انہوں نے ہرگز حضرت عیسی کو نہیں مارا بلکہ اللہ نے اس کو اپنے حضور میں بڑی عزت اور رفعت بخشی تھی۔( گویا آپ نے حضرت عیسی کی وہی بزرگی ظاہر کی جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے ) اور کیوں خدا ایسا نہ کرتا وہ عزیز اور حکیم ہے یعنی ضروری تھا کہ حضرت عیسی کے منکرین صلیب پر لٹکاتے مگر یہ بھی ضروری تھا کہ وہ صلیب پر فوت نہ ہوتے اس لئے کہ اللہ عزیز اور حکیم ہے۔چونکہ وہ عزیز یعنی غالب ہے اس لئے ضروری تھا کہ صلیب پر چڑھاتے۔