سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 417
سيرة النبي علي 417 جلد 3 عل وسام نہیں۔بعض شکلوں کو ہی بعض لڑکیاں برداشت نہیں کر سکتیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک لونڈی تھی جس نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کی شکل اچھی نہیں لگتی۔پھر ایک اور عورت کے متعلق آتا ہے کہ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ( ) میں اس شخص کے ساتھ جس سے میری شادی کی گئی ہے رہنا گوارا نہیں کر سکتی۔چنانچہ آپ نے علیحدگی کا حکم دے دیا 6۔تو بسا اوقات بعض آدمیوں کی شکل سے عورتوں کو صلى الله طبعا نفرت ہوتی ہے۔لڑکی ان باتوں کو دیکھ سکتی ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے شادی کی بنیاد اس امر پر رکھی کہ دونوں کی مرضی سے ہو ماں باپ کی بھی اور لڑکی کی بھی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر دونوں کی مرضی نہ ملے تو کیا کیا جائے۔اگر لڑکی کو وہ پسند ہو مگر ماں باپ اپنے اغراض کے ماتحت وہاں اس کی شادی نہ کریں تو اسلام نے لڑکی کو اختیار دیا ہے وہ عدالت میں جا کر درخواست دے سکتی ہے کہ میرے والد اپنے اغراض کے ماتحت مجھے اچھے رشتہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور عدالت تحقیقات کے بعد اسے اجازت دے سکتی ہے کہ شادی کر لے۔گویا اس طرح سب کے حقوق محفوظ کرنے کا انتظام کر دیا گیا۔لڑکی اور ماں باپ دونوں کی مرضی کو ضروری رکھا اور اس طرح کا رشتہ یقیناً مبارک ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی شادیاں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔یورپ میں نوے فیصدی شادیاں ناکام ہوتی ہیں۔حتی کے وہاں یہ لطیفہ مشہور ہے کہ اگر کوئی مرد و عورت اکٹھے جا رہے ہوں تو کہتے ہیں یا تو یہ میاں بیوی نہیں یا ان کی شادی پر ابھی ایک ماہ نہیں گزرا۔لیکن مسلمانوں میں نوے فیصدی شادیاں کامیاب ہوتی ہیں۔ہندوستان میں دیکھ لو غیر قوموں کی عورتیں زیادہ نکلتی اور اغوا ہوتی ہیں سوائے ان قوموں کی عورتوں کے جن کی مالی یا اخلاقی حالت لوگوں نے خراب کر دی ہے۔غرض اسلام نے زوجیت کے تعلق کی ابتدا ایسے اصول پر رکھی کہ اس کی کوئی اور مثال نہیں مل سکتی۔پھر دھو کے بازی سے بچنے کیلئے یہ حکم دیا کہ نکاح علی الاعلان ہو۔جو علی الاعلان نہیں وہ نکاح ہی نہیں۔اس سے بھی بہت سے فسادات۔