سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 414
سيرة النبي م 414 جلد 3 صلى الله بھائی کے، رعایا اور راعی کے ہوں یا مختلف حکومتوں کے سب میں دنیا اسلام کی طرف آ رہی ہے۔پس پہلی بنیاد جو تمدن کے متعلق رسول کریم ﷺ نے رکھی وہ یہ تھی کہ تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے وَإِلَّا بعض کو شکوہ رہے گا کہ بعض کی رعایت کی گئی ہے۔اب صرف یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جو تمدن رسول کریم ﷺ نے پیش کیا وہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔لیکن یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ واقعی خدا کی طرف سے ہے اس پر رعایت کا شبہ نہیں ہو سکتا۔دنیا میں جو قوانین لوگ بناتے ہیں ان کے متعلق تو یہ خیال ہوسکتا ہے کہ بنانے والے کو اس کا حق بھی تھا یا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق اس قسم کا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا۔اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ یہ قانون فی الواقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔اسلام نے جملہ تمدنی امور کے متعلق ایسے قوانین بنائے ہیں کہ ان میں کوئی رخنہ یا نقص نہیں نکالا جا سکتا اور ایسی تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کا باہم مل کر بیٹھنا ممکن ہو گیا ہے۔دنیا میں تمدنی امور میں پہلی چیز شادی یعنی میاں بیوی کے تعلقات ہیں اسی سے نسل انسانی چلتی ہے۔اس کے متعلق ہی اسلامی تعلیم کو اگر دیکھ لیا جائے تو ہمارے دعویٰ کی تصدیق ہو جاتی ہے۔دنیا میں شادی عام طور پر یا تو زور سے کی جاتی ہے یا محبت سے۔زور سے شادی دو قسم کی ہوتی ہے یا تو مرد ز بر دستی کسی عورت سے شادی کرلے اور یا لڑکی کے والدین زبردستی جس سے چاہیں شادی کر دیں۔بابل کی حکومت میں یہی قانون رائج تھا کہ لڑکیاں جب جوان ہو جاتیں تو والدین انہیں مارکیٹ میں لا کر اس لئے کھڑا کر دیتے کہ ہم نے اسے پال پوس کر جوان کیا ہے اب کون اس کی زیادہ قیمت دیتا ہے اور جو ان کی منشا کے مطابق قیمت دے دیتا وہ لے جاتا ، لڑکی کو اس میں کوئی اختیار نہ تھا۔ہمارے ملک میں بھی یہی رواج ہے۔یہاں اگر چہ مارکیٹ میں تو نہیں لے جاتے مگر گھر میں قیمت لے لیتے ہیں۔اگر کہو کہ لڑکی کو مارکیٹ میں لے جاؤ تو کہیں گے استغفر اللہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے لیکن یوں گھر میں