سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 413
سيرة النبي عمال 413 جلد 3 کے ہاتھ میں فیصلہ کرنے کا کام ہے وہ منصف اور عادل ہے ممکن ہے وہ دشمن سے سختی اور دوست سے نرمی کا برتاؤ کرے پھر کس طرح تسلیم کر لیں کہ وہ صحیح فیصلہ کرے گا۔آپ نے فرمایا یہ دلیل ٹھیک ہے۔واقعہ میں لوگوں کے فوائد اس طرح ہیں، کوئی کسی کا رشتہ دار ہے، کسی کی کسی سے دوستی اور کسی سے دشمنی اور بعض سے منافرت اس لئے ان حالات کی موجودگی میں انسانوں کے قواعد قابل اعتماد نہیں ہو سکتے اور وہ یقیناً غلط ہیں۔دراصل تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے اور تمدنی قوانین اس ذات کی طرف سے ہونے چاہئیں جس کی نہ کسی سے رشتہ داری ہے اور نہ کسی سے دشمنی۔عورتوں سے پوچھو کہتی ہیں مردوں کے ہاتھ میں چونکہ قانون بنانا ہے اس لئے جس طرح چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں۔ہندوستانی کہتے ہیں ملکی قوانین انگریزوں نے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے ہوئے ہیں اس لئے ہم سول نافرمانی کرتے ہیں۔گاندھی جی کہتے ہیں ہم انگریزوں کا قانون نہیں مانتے وہ ہمارے مخالف ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کے قوانین کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا۔خدا تعالیٰ کو اس سے غرض نہیں کہ لنکا شائر کا کپڑا فروخت ہو یا نہ ہو اور ہندوستان کی روئی بلکے یا نہ بکے، نہ اسے کسی ملک کے نمک سے سروکار ہے اس کے نزدیک سب یکساں ہیں اس لئے رسول کریم نے آ کر فرمایا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ 4 خدا ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔سب چیزیں اسی سے طاقت پاتی ہیں۔وہ جس قانون کو جاری کرتا ہے وہ ایسے سرچشمہ سے نور حاصل کرتا ہے کہ جو لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ 5 جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔گویا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر بتایا کہ دنیا میں کبھی امن نہیں ہوسکتا جب تک تمدن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو۔باقیوں نے کہا ہم تمدنی قوانین بنائیں گے اور اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے تمدنی امور میں دخل دیا ہے۔اب وہ لوگ دھکے کھا کھا کر وہیں آ رہے ہیں جہاں اسلام لانا چاہتا ہے۔تعلقات خواہ میاں بیوی کے ہوں یا ماں باپ کے، بھائی بھائی کے ہوں یا بہن