سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 388
سيرة النبي علي 388 جلد 3 مشکلات کا دور ہونا ہوتا ہے اور جہاں ذنب کا لفظ آتا ہے وہاں زوائد کا دور کیا جانا مراد ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو سورۃ نساء رکوع 16 میں پہلے جنگ کا ذکر ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيْبًا وَ اسْتَغْفِرِ الله 93 اے محمد رسول اللہ جب ہم حکومت دیں گے تو کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دین کی باتوں میں خیانت سے کام لیں گے اور کجی کا راستہ اختیار کریں گے ان سے لڑنے کی طرف توجہ نہ کرنا بلکہ بجائے اس کے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنا کہ ان کی یہ کمزوری دور ہو جائے۔(2) سورۃ مومن رکوع 6 میں بھی پہلے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا 94 فرما کر نصرت کا ذکر کیا ہے اور پھر واسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ 95 میں استغفار اور تسبیح کا حکم دیا ہے۔سورۃ محمد رکوع 2 میں بھی پہلے ساعت کے آنے کا ذکر ہے یعنی فتح کا اور پھر وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ فرماتا ہے۔(4) سورۃ نصر میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے۔اور پھر آتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ 96 (5) سورۃ فتح میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے اور پھر غفر کا۔فرمایا اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَرَ جو ان سب حوالوں میں فتح کے ساتھ ذنب یا استغفار کا ذکر ہے۔یعنی یا تو فتح کے وعدہ کے بعد یا فتح کے ذکر کے بعد۔چار جگہوں میں تو فتح کے وعدہ کے ساتھ استغفار کا ذکر کیا ہے اور ایک جگہ فتح مبین کا ذکر ہے اور وہاں نِیغْفِر کہا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تیری دعاسنی گئی اور ہم نے عام فتوحات کی بجائے تجھے فتح مبین عطا کی ہے تا کہ تیرے ذنب بخشے جائیں۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کسی کو فتح ونصرت کا ملنا کیا گناہ ہے اور ہر جگہ فتح کے ساتھ یہ الفاظ کیوں آئے ہیں ؟ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ استغفار اور ذنب کسی اور قسم کا ہے۔اگر گناہ مراد تھا تو چاہئے تھا کہ کسی گناہ کا ذکر کیا جاتا مگر ایسا تو ایک جگہ بھی نہیں کیا گیا۔بلکہ بجائے اس کے یہ بتایا کہ ہم تجھے فتح ونصرت دیتے ہیں تو استغفار کر۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس کے معنی کچھ اور ہیں۔اور وہ یہ کہ