سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 353

سيرة النبي علي 353 جلد 3 چھٹا اعتراض ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آپ شاعر ہیں۔چنانچہ سورۃ انبیاء رکوع اول میں آتا ہے بَلْ هُوَ شَاعِر 24 کہ یہ صحیح باتیں بیان کر کے لوگوں پر اثر ڈال لیتا ہے۔اس کا جواب سورۃ یسین رکوع 5 میں یہ دیا کہ وَ مَا عَلَّمْنُهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيَّا وَ يَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَفِرِيْنَ 25 یعنی ہم نے اسے شعر نہیں سکھایا۔اور یہ تو اس کی شان کے مطابق بھی نہیں ہے۔یہ تو ذِکر اور قرآن ہے۔کھول کھول کر باتیں سنانے والا ہے۔یہ اس لئے نازل کیا گیا ہے تا کہ اسے جس میں روحانی زندگی ہے ڈرائے اور کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اول قرآن شعر نہیں۔ان لوگوں کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ نثر کو شعر کہتے ہیں۔دوم اگر کہیں کہ مجازی معنوں میں شعر کہتے ہیں کیونکہ شعر کے معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو اندر سے باہر آئے اور شعر کو اس لئے شعر کہا جاتا ہے کہ وہ جذبات کو ابھارتا ہے تو اس کا جواب یہ دیا کہ وَمَا يَنْبَغِی لَهُ یہ تو اس کی شان کے ہی مطابق نہیں کہ اس قسم کی باتیں کرے۔اس کی ساری زندگی دیکھ لو۔شاعر کی غرض اپنے آپ کو مشہور کرنا ہوتی ہے مگر یہ تو کہتا ہے مِثْلُكُمُ میں تمہارے جیسا ہی انسان ہوں۔پھر شاعران لوگوں کی مدح کرتا ہے جن سے اس نے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے مگر یہ تو کہتا ہے کہ میں تم سے کچھ نہیں لیتا ، نہ کچھ مانگتا ہوں۔پس شاعری اور اس کا لایا ہوا کلام آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔سوم پھر اس میں ذکر ہے حالانکہ شعر ذکر نہیں ہوتا۔یعنی شاعر اندرونی جذبات کو ابھارتا ہے،شہوت اور حسن پرستی کا ذکر کرتا ہے مگر یہ ایسی باتوں کی مذمت کرتا ہے۔چہارم پھر یہ ایسا کلام ہے جو فطرت کے اعلیٰ محاسن کو بیدار کر کے جن کی فطرت صحیح ہوتی ہے انہیں بدیوں سے بچاتا ہے اور جو مردہ ہوتے ہیں ان پر حجت تمام کرتا ہے۔حالانکہ شاعر جذبات بہیمیہ کو ابھارتا ہے۔پس اسے مجازی طور پر بھی شعر نہیں کہہ سکتے۔