سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 352

سيرة النبي عمال 352 جلد 3 ہے۔ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بات میں کا ہن اور شاعر دونوں مشترک ہوتے ہیں۔شاعر بھی بڑے بڑے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور سب کچھ بیان کرنے کے بعد ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔اسی طرح کا ہن بھی خبریں بتا کر مانگتا پھرتا ہے۔مگر فر مایا یہ رسول تو ایسا ہے جو اپنے پاس سے خرچ کرتا ہے کا ہن تو دوسروں سے مانگتا ہے۔یہاں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کو رسول کریم ﷺ کا کلام قرار دیا گیا ہے۔یہاں رسول کہہ کر اس شبہ کو رد کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں کیونکہ رسول وہی ہوتا ہے جو دوسرے کا پیغام لائے۔اگر محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی طرف سے بیان کرتا تو آپ کا کلام سمجھا جا تا مگر یہ تو رسول ہے۔تیسری دلیل یہ دی کہ کا ہن تو اپنے اخبار کو اپنے علم کی طرف منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے جفر، رمل، تیروں اور ہندسوں وغیرہ سے یہ یہ باتیں معلوم کی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف اپنی خبروں کو منسوب نہیں کرتا۔مگر یہ رسول کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے کلام پا کر سناتا ہوں اور یہ اپنے کلام کو تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ کہتا ہے۔یہاں یہ بھی بتا دیا کہ کا ہن ایسی باتیں بیان کرنے کی وجہ سے اس لئے سزا نہیں پاتا کہ وہ خدا پر تقول نہیں کرتا بلکہ اپنی طرف سے بیان کرتا ہے۔مگر رسول کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے میں بیان کرتا ہوں۔اگر رسول جھوٹا ہو تو فوراً نتباہ کر دیا جاتا ہے۔پس یہ کا ہن نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا رسول ہے اور اس پر جو کلام نازل ہوا ہے یہ رب العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔اگر کہو کہ یہ اس طرح اپنی کہانت کو چھپاتا ہے تو یاد رکھو کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا کبھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جو اسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔