سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 25
سيرة النبي عمال 25 جلد 3 یورپ میں عورت کو اس کے مال کا مالک نہیں مانا جاتا تھا) میکسیکو امریکہ میں بھی اوپر کے بیان کردہ وجوہ کو طلاق و خلع کے لئے کافی وجہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔اور ساتھ ہی باہمی رضا مندی کو بھی اس کے جواز کے لئے کافی سمجھا گیا ہے۔یہ قانون 1917ء میں پاس ہوا ہے۔پرتگال میں 1915 ء میں، ناروے میں 1909 ء میں، سویڈن میں 1920 ، اور سوئٹزرلینڈ میں 1912 ء میں ایسے قوانین پاس کر دیئے گئے کہ جن سے طلاق اور خلع کی اجازت ہو گئی ہے۔سویڈن میں باپ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال تک کی عمر تک بچہ کے اخراجات ادا کرے۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں گو قانون اب تک یہی کہتا ہے کہ بچہ پر باپ کا حق ہے لیکن عملاً اسلامی طریق پر اصلاح شروع ہو گئی اور حج عورت کے احساسات کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں اور مرد کو مجبور کر کے خرچ بھی دلوایا جاتا ہے۔لیکن ابھی تک اس قانون میں بہت کچھ خامیاں ہیں گو مرد کے حقوق کی حفاظت زیادہ سختی سے کی گئی ہے۔عورت کو اس کے مال پر تصرف بھی دلایا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی بعض ریاستوں میں یہ بھی قانون پاس کر دیا گیا ہے کہ اگر خاوند اپاہج ہو جائے تو بیوی پر بھی اس کے اخراجات کا مہیا کرنا لازمی ہوگا۔عورتوں کو ووٹ کے حقوق دیئے جا رہے ہیں اور ان سے قومی امور میں مشورہ لینے کے لئے بھی راہیں کھولی جا رہی ہیں لیکن یہ سب باتیں رسول کریم ع کے ارشادات کے پورے تیرہ سو سال کے بعد ہوئی ہیں اور ابھی کچھ ہونی باقی ہیں۔بہت سے ممالک میں ابھی عورت کو باپ اور ماں اور خاوند کے مال کا وارث نہیں قرار دیا گیا۔اور اسی طرح اور کئی حقوق باقی ہیں جن میں اسلام اب بھی باقی دنیا کی راہنمائی کر رہا ہے لیکن ابھی اس نے اس کی راہنمائی کو قبول نہیں کیا۔لیکن وہ زمانہ دور نہیں جب رسول کریم ﷺ کی راہنمائی کو ان معاملات میں بھی دنیا قبول کرے گی جس طرح اس نے اور معاملات میں قبول کیا۔اور آپ کا جہاد عورتوں کی آزادی کے