سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 316
سيرة النبي علي 316 جلد 3 ہے۔فوراً آکر دروازہ کھولا اور پوچھا کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا اس غریب کا روپیہ کیوں نہیں دیتے۔اس نے کہا ٹھہرئیے ابھی لاتا ہوں اور اندر سے روپیہ لا کر فوراً دے دیا۔لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ یہ ڈر گیا ہے۔مگر اس نے کہا میں تمہیں کیا بتاؤں کہ کیا ہوا۔جب میں نے دروازہ کھولا تو ایسا معلوم ہوا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں جو مجھے نوچ کرکھا جائیں گے۔کوئی تعجب نہیں یہ معجزہ ہو۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ صداقت کا بھی ایک رعب ہوتا ہے۔غرضیکہ ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح اپنے عمل سے دکھا دیا کہ غربت میں بھی انسان کے اندر کیسی اخلاقی جرات ہونی چاہئے۔جب آپ نے حضرت خدیجہ سے شادی کی تو اس وقت کوئی مال آپ کے پاس نہ تھا۔بعض لوگوں نے روایت کی ہے کہ آپ کے والد نے پانچ بکریاں اور ایک دو اونٹ آپ کے لئے چھوڑے اور بعض اس سے بھی انکار کرتے ہیں۔بہر حال اگر ورثہ میں آپ کو کوئی جائیداد ملی بھی تو وہ ایسی قلیل تھی کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔مگر پھر بھی آپ کی طبیعت میں حرص بالکل نہ تھی اور سیر چشمی کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔اپنے حالات کے لحاظ سے آپ کے لئے حرص کی گنجائش تھی مگر آپ کا لقب امین تھا۔اس وقت بھی ممکن ہے یہاں لاہور میں ہی سینکڑوں ایسے لوگ ہوں جن کے پاس اگر کوئی امانت رکھی جائے تو وہ اسے واپس کر دیں گے مگر دنیا انہیں امین نہیں کہتی کیونکہ امین وہی کہلا سکتا ہے جو خطرناک امتحانوں سے گزر کر بھی امانت کو قائم رکھے۔اگر ایک شخص کے پاس لاکھ روپیہ ہے تو ہمارا ایک ہزار اگر وہ واپس کر دے تو یہ کوئی خوبی نہیں مگر رسول کریم ﷺ کو سخت مالی امتحانوں سے گزرنا پڑتا تھا اور باوجود اس کے آپ کے پاس سب کی مالی و جانی امانتیں محفوظ رہتی تھیں اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ آپ کی طبیعت میں بے حد استغنا تھا۔حتی کہ آپ کی قوم نے آپ کو امین کا خطاب