سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 315

سيرة النبي علي 315 جلد 3 اپنی جوانی کے زمانہ کے متعلق خود رسول کریم ﷺ کا بیان ہے کہ دو مواقع ایسے آئے کہ میں نے کوئی تماشا وغیرہ دیکھنے کا ارادہ کیا۔جیسے مداری وغیرہ کا کھیل ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ سو گیا۔تو آپ کی جوانی ایسی پاکیزہ ہے کہ اور کہیں نظر نہیں آتی۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی کے واقعات عام طور پر معلوم نہیں ہوتے مگر آپ کی زندگی کے تمام حالات پوری طرح محفوظ ہیں۔اس کے بعد ہم آپ کی زندگی کے اخلاقی پہلو اور غرباء کی امداد کو لیتے ہیں تو اس میں بھی آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔مکہ کے بعض اشخاص نے مل کر ایک ایسی جماعت بنائی جو غریب لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرے اور چونکہ اس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتا تھا اس لئے اسے حلف الفضول کہا جاتا ہے۔اس میں آپ بھی شامل ہوئے۔یہ نبوت سے پہلے کی بات ہے۔بعد میں صحابہ نے ایک دفعہ دریافت کیا کہ یہ کیا تھی؟ آپ سمجھ گئے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ تو نبی ہونے والے تھے آپ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہو گئے جس میں دوسروں کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔آپ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی پیاری تھی کہ اگر آج بھی کوئی اس کی طرف بلائے تو میں شامل ہونے کو تیار ہوں 6۔گویا غرباء کی مدد کے لئے دوسروں کی ماتحتی سے بھی آپ کو عار نہیں تھی۔ایک غریب شخص نے ابو جہل سے کچھ قرضہ لینا تھا اور وہ غریب سمجھ کے ادا نہیں کرتا تھا وہ حلف الفضول کے لیڈروں کے پاس گیا کہ دلوا دو۔مگر ابو جہل سے کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا۔آخر وہ شخص ان ایام میں جب آپ نبوت کے مقام پر فائز ہو چکے تھے آپ کے پاس آیا کہ آپ بھی حلف الفضول کے ممبروں میں سے ہیں ابو جہل سے میرا قرضہ دلوا دیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ابو جہل آپ کے قتل کا فتویٰ دے چکا تھا اور مکہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا۔آپ فوراً ساتھ چل پڑے اور جا کر ابو جہل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اس نے پوچھا کون ہے؟ آپ نے فرمایا محمد۔وہ گھبرا گیا کہ کیا معاملہ