سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 302

سيرة النبي عمال 302 جلد 3 جو لوگ اس کی بھی قابلیت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے اسلام نے نصیحت فرمائی ہے کہ مالدار لوگ انہیں آزاد کرائیں اور حکومت انہیں آزاد کرائے۔لیکن جو لوگ کسی طرح بھی کمائی نہ کر سکتے ہوں اور آزاد ہو کر سوال کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو ان کے متعلق مالک کو یہی حکم ہے کہ وہ انہیں پاس رکھے اور ان کی خبر گیری کرے۔اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے اور اپنے کپڑے میں سے انہیں پہنائے۔اسلام میں کوئی غلامی نہیں ہر شخص جو ان احکام کو پڑھے معلوم کر سکتا ہے کہ غلامی کا جو مفہوم دنیا میں پایا جاتا ہے اس کے رو سے اسلام میں کوئی غلامی رائج نہیں۔ہاں فلسفیانہ اصول پر جو غلامی کی تشریح کی جاتی ہے اور جس کے ماتحت غلامی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی اور ضروری بھی ہو سکتی ہے اور غیر ضروری بھی اس غلامی کی بعض قسمیں اسلام نے جائز رکھی ہیں۔یعنی وہ جو اچھی ہیں اور ضروری ہیں اور جن کا ترک کرنا کوئی عقلمند انسان پسند نہیں کر سکتا اور جن کے ترک کرنے سے دنیا میں فساد اور فتنہ پیدا ہوتا ہے اور حقیقی آزادی ملتی ہے اور دنیا کی ترقی میں روک پیدا ہوتی ہے۔اور جو غلامی کے برے طریق ہیں ان سے اسلام نے روکا ہے اور دوسرے لوگوں کی طرح صرف روکا ہی نہیں بلکہ غلامی کے ان طریقوں کے موجبات اور محرکات کا بھی علاج کیا ہے تا کہ انسان مجبور ہو کر ان غلامیوں میں مبتلا نہ ہو۔پس مبارک ہے محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود حقیقی آزادی دینے والا انسان جنہوں نے اس غلامی کو جو دنیا کے لئے مضر تھی مٹایا اور دنیا کو حقیقی آزادی عطا کی۔وہ نادان جو لفظاً غلامی کو مٹاتے ہیں اور عملاً اسے قائم کرتے ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چاند پر تھوکتا ہے۔لیکن چاند پر تھوکا خود ان کے اپنے منہ پر پڑتا ہے۔عقلمند آدمی محسوس کرتے ہیں کل سب دنیا معلوم کر لے گی کہ حقیقی آزادی اس تعلیم میں ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور دنیا