سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 280

سيرة النبي علي 280 جلد 3 کفار مکہ کی بد عہدی اور رسول کریم میے کی مکہ پر چڑھائی مظلوم کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں حضرت مصلح موعود نے متعدد کوششیں کیں۔اسی سلسلہ میں الفضل 3 ستمبر 1931 ء میں ایک اشتہار شائع کیا۔اس میں آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالہ سے فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک ایسا ہی واقعہ گزرا ہے جس سے اس امر کی حقیقت خوب کھل جاتی ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک شرط یہ ہوئی تھی کہ عرب کے جو قبائل چاہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جائیں اور جو چاہیں مکہ والوں سے۔دونوں فریق کا فرض ہے کہ نہ صرف آپس میں لڑائی سے بچیں بلکہ جو لوگ دوسرے فریق کے ساتھ مل جائیں ان سے بھی نہ لڑیں۔مکہ والوں نے اس میں بدعہدی کی اور ایک قبیلہ جو مسلمانوں کا حلیف بن گیا تھا اس پر انہوں نے اپنے دوست قبیلہ کی حمایت میں رات کو حملہ کر دیا۔ان لوگوں نے رسول کریم ہے شکایت کی اور آپ نے اپنے دوست قبیلہ کی حمایت میں مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ادھر مکہ والے چونکہ معاہدہ توڑ چکے تھے اس لئے انہیں بھی فکر ہوئی اور انہوں نے ابوسفیان کو جواب تک اسلام نہ لائے تھے مدینہ روانہ کیا کہ جا کر کسی طرح رسول کریم کی ناراضگی کو دور کریں۔انہوں نے آ کر مسجد نبوی میں یہ اعلان کر دیا کہ چونکہ میں صلح حدیبیہ کے وقت مکہ میں موجود نہ تھا اور معاہدہ پر میرے دستخط نہ تھے میں یہ