سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 278
سيرة النبي علي 278 جلد 3 ایک بے کس یتیم زبردست بادشاہ بن گیا حضرت مصلح موعود اپنے مضمون محررہ 23 اگست 1931ء میں رسول کریم ﷺ کا درج ذیل الفاظ میں ذکر فرماتے ہیں:۔رسول کریم علیہ آئے اور آپ کو اور آپ کے صحابہ کو شدید قربانیاں جو تمام قسم کی قربانیوں پر مشتمل تھیں اور جو اپنی نظیر آپ ہی تھیں ، ایک نہایت قلیل عرصہ میں ادا کرنی پڑیں۔اور خدا تعالیٰ نے ان قربانیوں کے مطابق اپنے فضل بھی اعلیٰ درجہ کے اور غیر معمولی ایک نہایت قلیل عرصہ میں نازل کئے جن کو دیکھ کر دنیا اب تک انگشت بدنداں ہے۔ایک یتیم بچہ جس کو گاؤں کی کوئی غریب دا یہ بھی قبول کرنے کو تیار نہ تھی۔جس کی ساری پونچی ایک اونٹ تھا اور وہ بھی اس کی بلوغت سے پہلے نہ معلوم کس طرح ادھر ادھر ہو گیا تھا۔جس نے چالیس سال کی عمر تک گوشہ تنہائی میں گزارے تھے۔جو نہ پڑھنا جانتا تھا نہ لکھنا اور جس نے جب اپنی ماموریت کا اعلان کیا تو سب سے زیادہ اس کے عزیز رشتہ دار ہی اس کے مخالف ہو گئے تھے۔جس کے وطن کا ہر فرد اس کے خون کا پیاسا تھا۔جو کچلا گیا ، پیسا گیا اور دکھ دیا گیا۔اور جس کے مٹانے کے لئے اپنے اور بیگانے سب جمع ہو گئے اور گویا بڑوں اور چھوٹوں نے متحدہ طور پر اسے مٹانے کا تہیہ کر لیا۔جسے رات کی تاریکی میں اپنے وطن کو صرف ایک ساتھی کے ساتھ خیر باد ہ کر ایک اجنبی بستی میں جہاں اس کے دوستوں کی تعدا دسوسوا سو آدمی سے زائد نی تھی جانا پڑا، ہاں وہی شخص صرف سات سال کے عرصہ میں ایک زبر دست بادشاہ ہو