سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 270
سيرة النبي علي 270 جلد 3 صلى الله رسول کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کی قربانیوں میں فرق صلى الله الله حضرت مصلح موعود 23 جنوری 1931ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔”رمضان اپنے اندر بڑی برکتیں رکھتا ہے اور یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی عید ہے۔کیا لطیف فرق ہے محمد رسول اللہ ﷺ اور دوسرے انبیاء کی قربانی میں۔حضرت ابراہیم کی قربانی بڑی تھی لیکن اس کے بدلہ میں کیا ملا۔اس کی یاداس طرح قائم کی گئی کہ کھاؤ اور پیو لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے بدلے میں امت محمدیہ کے لئے بھی ایک قربانی رکھی گئی۔اور وہ یہ کہ روزے رکھو اور فاقے کرو۔گویا محمد رسول اللہ ﷺ کی عید قربانی میں ہی تھی۔باقی انبیاء اپنی قربانیوں کے نتیجہ میں کھاتے پیتے تھے مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔حتی کہ اپنی اولاد کے لئے بھی صدقہ حرام فرما دیا 1۔پس رمضان آپ کی قربانی کی عید ہے جس طرح عید الاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی۔اور عید الفطر مسلمانوں کی قربانی کی عید ہے اور سب سے بڑی رمضان کی عید ہے۔اگر چہ دوسری دونوں عیدیں بھی بڑی ہیں مگر ان سب سے بڑھ کر رمضان ہے۔جب محمد رسول اللہ ﷺ کی قربانی کی یاد کے لئے انسان کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے بڑھ کر اور کوئی عید نہیں ہو سکتی۔ہر چیز کی خوشی اس کے فوائد کی مقدار کے مطابق ہوتی ہے۔اگر ایک چیز کے ہزار فائدے ہوں اور دوسری کے لاکھ تو لاکھ فوائد والی چیز ملنے پر پہلی سے بہت زیادہ خوشی ہو گی۔چونکہ سب سے بڑھ کر نعمت قرآن کریم ہے اس لئے جس وقت اس کا نزول ہوا وہ نہایت ہی قیمتی اور بابرکت ہے۔عید الفطر کا تو یہ -