سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 262

سيرة النبي علي 262 جلد 3 عمل صالح کی نصیحت 28 دسمبر 1930 کو جلسہ سالانہ قادیان سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔ایک دفعہ رسول کریم علیہ جہاد کے لئے گئے۔رمضان کا مہینہ تھا۔کچھ لوگوں نے روزے رکھے ہوئے تھے اور کچھ نے نہ رکھے تھے۔جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو منزل پر پہنچ کر لیٹ گئے لیکن جو روزہ سے نہ تھے وہ خیمے لگانے اور دوسرے کام کرنے لگ گئے۔یہ دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا آج روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے بڑھ گئے 1۔پس اسلام کہتا ہے جہاں کھانا مفید ہے اور اس سے خدمت دین میں مدد ملتی ہے وہاں اگر کوئی عمدہ کھانا نہ کھائے گا تو گناہگار ہوگا۔دیکھو رسول کریم ہے جب رات کو صلى الله سوتے تو مختلف محلوں کے لوگوں نے باریاں تقسیم کی ہوئی تھیں۔وہ باری باری رات کو آپ الله الله کے مکان کا پہرہ دیتے۔اس کے لئے اجازت دینا رسول کریم ﷺ کا کام تھا۔اور صحابہ کا یہ فرض تھا کہ رات کو آپ کی حفاظت کا انتظام کرتے کیونکہ رسول کریم ﷺ کی ذات پر حملہ ہونا اسلام کو نقصان پہنچانے والا تھا اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نعوذ بالله رسول کریم ہ اپنی بادشاہت جتلاتے تھے اور اپنے لئے پہرہ مقرر کرتے تھے۔پہرہ آپ کے لئے ضروری تھا اور اس کا مقرر نہ کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہوتا۔“ ( فضائل القرآن نمبر 3 صفحہ 147 ناشر الشركة الاسلامیہ ربوہ 1963ء) 1: صحیح مسلم کتاب الصيام باب اجر المفطر في السفر اذا تولّى العمل صفحه 457 حدیث نمبر 2622 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية