سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 260
سيرة النبي علي 260 جلد 3 کسری ایران کی ہلاکت کی خبر دینا 27 دسمبر 1930ء کو جلسہ سالانہ مستورات سے خطاب کے دوران حضرت مصلح موعود صلى الله نے رسول کریم ﷺ کے کسری ایران کی ہلاکت کی خبر دینے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔آنحضرت ﷺ کے متعلق واقعہ ہے کہ دنیوی حالت نہایت غربت میں تھی۔ہاں ظاہری حالت بے بسی کی سی۔مگر باوجود اس ظاہری بے سروسامانی کے ایران کے بادشاہ کے پاس آپ کی نبوت اور ترقی کی رپورٹیں برابر پہنچتی تھیں اور وہ آپ سے باوجود بادشاہ ہونے کے خائف تھا۔آخر اس نے عرب کے گورنر کو آپ کی گرفتاری کا حکم بھیجا۔آدمی شاہی حکم لے کر آپ کے پاس آئے اور صاف صاف عرض کر دیا اور کہا کہ نافرمانی نہ کیجئے بے چون و چرا ہمارے ہاتھ اپنے آپ کو دے دیجئے۔بادشاہ بہت بڑا ہے اس کے حکم کی تعمیل میں ایران چلیے اسی میں آپ کا بھلا ہے۔آپ نے فرمایا کہ کل اس کا جواب دوں گا۔دوسرے دن آپ نے ان سے فرمایا سنو ! آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا۔جاؤ واپس۔انہوں نے واپس جا کر من وعن گورنر کو کہہ دیا۔گورنر حیران ہو گیا۔وہ ایران کی ڈاک کا منتظر رہا یہاں تک کہ وہی اطلاع اس کو پہنچی کہ خود اس کے بیٹے نے اس کو قتل کر دیا اور اسی رات جس رات آپ نے فرمایا تھا۔خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارا باپ بڑا ظالم تھا ہم نے اس کو مار دیا۔اب ہم خود بادشاہ ہیں۔ہمارے باپ نے از راہ ظلم عرب کے ایک شخص کو قتل کا حکم دیا ہے۔اب چونکہ وہ مار دیا گیا ہم اس کے حکم کو منسوخ کرتے ہیں 1۔“ (مصباح جنوری 1931ء) 66 1 تاريخ الطبرى الجزء الثانی صفحه 133 مطبوعہ بیروت 2012ء الطبعة الخامسة