سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 251
سيرة النبي عمال 251 جلد 3 تھے کہ دو پہر کے وقت جنگل میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے۔دوسرے صحابی علیحدہ علیحدہ جگہوں میں لیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص جس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ آپ کو قتل کئے بغیر واپس نہ لوٹوں گا اور جسے دوران جنگ میں حملہ کرنے کا موقع نہ ملا تھا آیا اور درخت سے لٹکی ہوئی تلوارا تار کر رسول کریم ﷺ کو جگا کر کہنے لگا اتنی مدت سے میں تمہاری تلاش میں تھا اب مجھے موقع ملا ہے بتاؤ اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے اسی طرح لیٹے لیٹے بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار کئے فرمایا مجھے اللہ بچا سکتا ہے 8۔یہ الفاظ بظا ہر معمولی معلوم ہوتے ہیں اور کئی لوگ ان کی نقل کر کے یہ کہہ سکتے ہیں مگر ان کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان میں کیسی صداقت تھی۔جب آپ نے فرمایا مجھے اللہ بچا سکتا ہے تو حملہ آور کا ہاتھ کانپ گیا اور تلوار گر گئی۔اُس وقت آپ اٹھے اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہا اب بتاؤ تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا آپ ہی رحم صلى الله کریں تو میں بچ سکتا ہوں۔اسے رسول کریم ﷺ سے سن کر بھی اللہ یاد نہ آیا۔مگر صلى الله رسول کریم ﷺ نے اسے کہا جاؤ اور چھوڑ دیا۔یہ عرفان الہی کا ہی نتیجہ تھا اور جب تک کامل عرفان حاصل نہ ہو اُس وقت تک اس طرح نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح ایک اور جنگ کے موقع پر جسے حنین کی جنگ کہتے ہیں اور جس میں کچھ نو مسلم اور کچھ غیر مسلم بھی شامل تھے جب لڑائی شروع ہوئی تو باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی اور دشمن کی تعداد چار ہزار۔مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ایسی شکست ہوئی کہ وہ کہتے ہم اونٹوں کو پیچھے کی طرف موڑتے اور نکیل کھینچنے سے ان کے سر پیٹھ کے ساتھ جا لگتے مگر جب چلاتے تو آگے کی طرف ہی دوڑتے۔اُس وقت رسول کریم ع کے اردگر دصرف بارہ آدمی رہ گئے۔بعض صحابہؓ نے اُس وقت رسول کریم ﷺ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور واپسی کے لئے کہا۔عليم مگر آپ نے انہیں جھڑک دیا اور حضرت عباس کو کہا لوگوں کو آواز دو کہ جمع ہو جائیں اور خود دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھے۔